دین اور منہاج
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۵
دین اور منہاج
قرآن کی سورہ نمبر 42 میں بتایا گیا ہے کہ خدا کا جو الدّین ہے، اُس کو خدا نے تمام پیغمبروں کو یکساں طور پر دیا ہے (الشورى: 13)۔ الدّین سے مراد، خدا کے دین کی ابدی تعلیمات ہیں۔ یہ تعلیمات ہمیشہ یکساں رہتی ہیں، اس میں حالات یا زمانے کے تغیر سے کوئی فرق نہیں ہوتا۔ دین کی یہ ابدی تعلیمات تمام پیغمبروں کو یکساں طور پر دی گئی ہیں۔ ان ابدی تعلیمات کے اعتبار سے ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی فرق نہیں (لا نفرّق بين أحد من رسله، البقرة: 285) دوسری طرف، قرآن کی سورہ نمبر پانچ میں بتایا گیا ہے کہ ہر پیغمبر کو خدا نے الگ الگ منہاج دیے: (لكل جعلنا منكم شرعة ومنهاجا (المائدة: 48)۔ اس سے معلوم ہوا کہ دین خداوندی کے دو حصے ہیں۔ ایک، الدّین اور دوسرا، منہاج۔ الدّین ابدی طور پر ایک ہی رہتا ہے، لیکن منہاج یا طریق کار (method) کا تعلق وقت کے حالات سے ہوتا ہے، اس لیے حالات کی تبدیلی کے تحت اُس میں فرق ہوتا رہتا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سلسلہ نبوت کی آخری کڑی تھے (الأحزاب: 40) 570 عیسوی میں آپ مکہ میں پیدا ہوئے ۔ 610 عیسوی میں آپ پر پہلی وحی اتری۔ 632 عیسوی میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ آپ خدا کے آخری نبی تھے۔ آپ پر اُترنے والی کتاب (قرآن) کو خدا نے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ آپ کو جو الدّین دیا گیا، وہ کامل بھی ہے اور ابدی بھی ہے۔ ہر زمانے کے انسانوں کے لیے خدا کے دین کو جاننے کا یہی واحد مستند ماخذ ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا دوسرا حصہ وہ ہے، جس کا تعلق منہاج یا طریق کار سے ہے۔ اس معاملے میں آپ نے رہ نما اصول مقرر فرمادیے ہیں، لیکن جہاں تک عملی طریقے کا تعلق ہے، وہ علماء امت کا کام ہے۔ ہر زمانے کے علما، حالات کے اعتبار سے اُس منہاج یا طریق کار کو اختیار کریں گے جو اُن کو حالات کے اعتبار سے مؤثر اور مفید نظر آئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues