دین اور منہاج کا فرق
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۷
اسی طرح کی ایک مثال وہ ہے جو غزوۂ احزاب (5 ہجری) کے موقع پر پیش آئی۔ اُس وقت آپ کے مخالفین ایک بڑی فوج لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اُس وقت اہلِ ایمان مقابلے کی پوزیشن میں نہ تھے، اس لیے آپ نے چاہا کہ کسی تدبیر کے تحت جنگ کو ٹال دیا جائے۔ آپ نے لوگوں سے مشورہ کیا۔ اُس وقت سلمان فارسی کھڑے ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے بادشاہ جب جنگ سے اعراض کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے اور مخالف فوج کے درمیان خندق (trench) کھود دیتے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رائے کو پسند کیا اور ایرانی طریقے کے مطابق، مدینہ کے باہر ایک خندق کھود دی۔ اس لیے اس غزوے کو ’غزوۂ خندق‘ کہا جاتا ہے۔
اسی طرح کا ایک معاملہ وہ ہے جو کھجور کے درختوں کی زرخیزی (pollination) سے تعلق رکھتا ہے۔ سیرت کی کتابوں میں اس کو ’تأبیر نخل‘ کا نام دیا گیا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ آئے تو وہاں کے لوگ کھجور کے درختوں کی زرخیزی کے لیے تأبیر نخل کا طریقہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ آپ نے اُس کو دیکھا تو آپ نے اُس سے اپنے عدم اتفاق کا اظہار کیا۔ چناں چہ لوگوں نے اُس کے بعد تأبیر یا تلقیح کے عمل کو چھوڑ دیا۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُس سال کھجور کی فصل کم ہوئی۔ آپ نے کمی کا سبب پوچھا تو لوگوں نے کہا کہ آپ کے کہنے کے مطابق، ہم نے تأبیر اور تلقیح کا عمل نہیں کیا، اس لیے ایسا ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ جو کرتے تھے، وہ کرو۔ کیوں کہ دنیا کے معاملے میں تم زیادہ جانتے ہو (أنتم أعلم بأمر دنیاکم)۔
اس قسم کے واقعات بتاتے ہیں کہ جہاں تک الدین کا تعلق ہے، اس معاملے میں پیغمبر اسلام کا اسوہ ایک کامل اور ابدی اسوہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن جہاں تک منہاج یا طریقِ کار کا تعلق ہے، اس میں حقیقی حالات کی نسبت سے یہ متعین ہوگا کہ کس وقت کون سا طریقہ اختیار کیا جائے۔ پیغمبر اسلام کا اسوہ اسلامی عقیدے کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم انسانی زندگی کے لیے ایک عملی نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ عملی نمونہ، زندگی کے ہر پہلو سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues