Al-Risala · October 2007 · page 8

چند مزید مثالیں

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۸

پیغمبر اسلام کی عملی زندگی ہر اعتبار سے، انسان کے لیے ابدی رہ نما کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت ہے کہ اُس نے پیغمبرِ آخرالزماں کی زندگی کو آخری طور پر محفوظ کر دیا۔ ورنہ جہاں تک پچھلے پیغمبروں کا معاملہ ہے، ان کی تاریخ پورے طور پر محفوظ حالت میں موجود نہیں۔ لیکن پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے نمونہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کے یہاں انسانی زندگی کے ہر معاملے کے لیے ایک مقرر مثال (set pattern) یا ایک پیشگی نمونہ (prototype) موجود ہے اور ہمیں، حقیقی صورت حال کا لحاظ کیے بغیر، صرف یہ کرنا ہے کہ ان پیشگی نمونوں کو لے کر ہمیشہ اُن کو اپنے ہر معاملے میں منطبق کرتے رہیں۔ اگر ایسا مانا جائے تو اسلام ایک جامد مذہب بن جائے گا، جس میں مزید ترقی کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ یہ بات پیغمبرِ اسلام کے زمانے کے لیے بھی درست ہے اور آپ کے بعد کے زمانے کے لیے بھی۔ اس سلسلے میں چند مثالیں اوپر آ چکی ہیں۔ یہاں مزید کچھ مثالیں درج کی جاتی ہیں۔

چند مزید مثالیں

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے تو اُس وقت کعبہ میں تین سو ساٹھ بُت رکھے ہوئے تھے، مگر آپ نے کبھی اُن بتوں کو توڑنے کی کوشش نہیں کی۔ کیوں کہ اُس وقت کی صورت حال یہ تھی کہ مکہ میں مسلم اور غیر مسلم دونوں موجود تھے۔ لیکن ہجرت کے آٹھویں سال جب مکہ فتح ہوا تو مکہ کے تمام لوگ اسلام میں داخل ہو گئے ۔ اُس وقت صورتِ حال مکمل طور پر بدل گئی۔ چناں چہ آپ نے تمام بتوں کو کعبہ سے نکال دیا۔ یہ دو مختلف طریقے آپ نے صورتِ حال کے فرق کی بنا پر اختیار فرمائے۔ ایک اور مثال یہ ہے کہ مدینہ میں آپ نے ایک خطاب میں فرمایا کہ: نحن أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لا نكتب ولا نحسب (صحیح البخاری، مسلم، مسند احمد) یعنی ہم اُمی لوگ ہیں۔ ہم نہ لکھتے ہیں اور نہ ہم حساب کرتے ہیں۔ یہ ابتدائی زمانے کی بات تھی۔ بعد کو ایرانی ایمپائر اور رومی ایمپائر اسلام کے علاقے میں داخل ہوئے تو صورتِ حال بدل گئی۔ اب بڑھی ہوئی ضرورتوں کی بنا پر سرکاری معاملات کا حساب رکھنا ضروری ہو گیا۔ چناں چہ خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسلامی سلطنت کے دفتروں کو ایرانی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues

Printed page