چند مزید مثالیں
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۹
ایمپائر اور رومی ایمپائر کے نمونے پر قائم کیا۔ انھوں نے ایرانیوں اور رومیوں کے ماہر افراد کو اسلامی دفاتر میں رکھا، جو ایرانی اور رومی نقشے پر سرکاری معاملات کا حساب درج کرتے تھے۔ طریق کار کے معاملے میں یہی عمل آپ کے بعد بھی جاری رہا۔ بنواميہ کے زمانے میں بحری بیڑا تیار کیا گیا، حالاں کہ اس سے پہلے اسلام میں ایسا نہیں کیا گیا تھا۔ بنوعباس کے زمانے میں بغداد میں رصدگاه (observatory) بنائی گئی، جو اسکندریہ کے رومی دور میں بنائی جانے والی رصدگاه کی نقل تھی۔ خوارزم شاہ کے زمانے میں سمر قند میں کاغذ کا کارخانہ بنایا گیا، جس کا نمونہ چین سے لیا گیا تھا۔ اندلس کی مسلم حکومت کے زمانے میں آب پاشی کے نئے طریقے اختیار کیے گئے، جس کا نمونہ غیر مسلم قوموں سے لیا گیا تھا، وغیرہ۔
یہی معاملہ موجودہ زمانے کی تمام مسلم سرگرمیوں کا ہے۔ آج ہر معاملے میں قدیم طریقے کو چھوڑ کر جدید مغربی طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ مثلاً فلسطین اور دوسرے مقامات پر مسلمان جو مسلح جہاد کر رہے ہیں اُس میں قدیم نمونے کے مطابق، تلوار اور گھوڑے کو جہاد کا ذریعہ نہیں بنایا گیا ہے، بلکہ گن اور بم کو جہاد کا ذریعہ بنایا گیا ہے، وغیرہ۔
خلاصہ یہ کہ اسلام کا ایک حصہ وہ ہے جس کو قرآن میں ’’الدین‘‘ کہا گیا ہے۔ یہ اسلام کا وہ حصہ ہے جس کا تعلق، عقیدہ اور عبادت اور اخلاقی نظام جیسی اساسی چیزوں سے ہے۔ یہی اسلام کا اصل حصہ ہے، اور یہ حصہ ابدی طور پر ایک ہے اور ایک ہی رہے گا۔ یہ حصہ اُسی طرح انسان کی رہ نمائی کے لیے ابدی سر چشمہ ہے، جس طرح آفتاب ابدی طور پر روشنی کا سر چشمہ بنا ہوا ہے۔ مگر منہاج یا طریق کار کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ طریق کار کا تعلق وقت کے حالات سے ہوتا ہے۔ طریق کار کے معاملے میں ہمیشہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ حالات کے مطابق، کون سا طریقہ زیادہ مؤثر ہے اور پھر اُس کو اختیار کر لیا جاتا ہے۔
مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مکہ میں 610 عیسوی میں نبوت ملی تو آپ نے اُس وقت اعلان کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ آپ مکہ کے قریب صفا پہاڑی پر کھڑے ہوئے اور وہاں سے لوگوں
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues