اُسوہ حسنہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۱
کو بتانے کے لیے اُسوہ حسنہ کا لفظ استعمال کیا۔ اگر اس آیت میں اسوۂ کاملہ کا لفظ ہوتا تو لوگ یقینی طور پر غلط فہمی میں پڑ جاتے ۔ لوگ الدین اور منہاج میں فرق کرنے سے قاصر رہتے۔ وہ غلط فہمی کی بنا پر یہ سمجھ لیتے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم، جس طرح الدین کے بارے میں ابدی اور کامل نمونہ ہیں، اسی طرح منہاج اور طریق کار کے معاملے میں بھی آپ کا طریقہ ابدی ہے۔ اس غلط فہمی کا یہ نتیجہ ہوتا کہ اسلام جمود کا شکار ہوجاتا۔ دوسری قومیں جدید ترقیاتی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتیں اور مسلمانوں کا قافلہ اُن سے بہت زیادہ پیچھے ہوجاتا۔
اس غلط فہمی اور اس کے غیر مطلوب نتائج کی ایک مثال ترکی میں ملتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ عثمانی خلافت کا فوجی نظام، قدیم طرز کے مطابق چلا آرہا تھا، یعنی اُن کی فوجی تیاری تلواروں اور گھوڑوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ پھر نشاۃ ثانیہ کے بعد مغربی یورپ کی مسیحی قوموں نے سامانِ جنگ کے لیے نئی ٹکنک اور نئے ہتھیار دریافت کیے ۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ ترکوں اور ان مسیحی قوموں کے درمیان فوجی توازن بگڑگیا۔ جدید ہتھیاروں سے مسلح مغربی فوجوں کے مقابلے میں ترکوں کی فوج شکست کھانے لگی۔ ترکی کے مسلمانوں کے لیے یہ ایک چشم کشا واقعہ تھا۔ چناں چہ بحث ومباحثے کے بعد یہ طے ہوا کہ ترکی کی فوج کو جدید ہتھیاروں کے ذریعے مسلح کیا جائے۔ چناں چہ وہاں ایسا ہی کیا گیا۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرچول مسیج (The Spiritual Message) ہے ۔ اس کی تفصیل یہ ہے :
دی اسپرچول مسیج، فی کاپی 15/- روپے، سالانہ -/165 روپے ۔
خط و کتابت کا پتہ ہے :
The Spiritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)
Tel.: 2834 1654/28346079/2821 8609, Fax: 2823 6323 Email: hbshaikh@bom5.vsnl.net.in
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues