نسخ کیا ہے
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۲
نسخ کیا ہے
قرآن کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو نسخ کہا جاتا ہے۔ نسخ کا مطلب اُردو مفہوم کے لحاظ سے منسوخی نہیں ہے۔ عربی زبان میں نسخ کا مطلب ہے ہٹانا، یعنی ایک چیز کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسری چیز لانا (replacement)۔ مشہور عربی لغت، لسان العرب میں نسخ کا مفہوم ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: النّسخ، تبديل الشيئ من الشيئ (جلد 3، صفحہ 61)، یعنی ایک چیز کو بدل کر اُس کی جگہ دوسری چیز لانا۔
نسخ کا یہ مفہوم خود قرآن کی دوسری آیت سے واضح ہورہا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 16 میں ارشاد ہوا ہے: وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مكان آيَةٍ (النّحل: 101)، یعنی جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کی جگہ دوسری آیت۔ اس آیت میں ایک چیز کو بدل کر اُس کی جگہ دوسری چیز لانے سے مراد عین وہی چیز ہے جس کو پہلی آیت میں نسخ کہا گیا ہے۔
مفسرین نے بھی دونوں آیتوں میں نسخ کا تقریباً یہی مفہوم لیا ہے۔ قرطبی کے الفاظ یہ ہیں: النسخ والتبديل: رفع الشيئ مع وضع غيره مكانه (القرطبی، جلد 10، صفحہ 176) یعنی نسخ اور تبدیلی کا مطلب کسی چیز کو اُس کی جگہ سے ہٹانا، اور وہاں دوسری چیز کو لے آنا ہے۔ نسخ کے معاملے کو عام طور پر یہود سے، یا یہود کی شریعت سے جوڑا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک قانونِ فطرت ہے۔ اس قانون کا تعلق بہت سے معاملات سے ہے۔ جب بھی کسی صورتِ حال میں تبدیلی ہو تو وہاں نسخ کی ضرورت پیش آتی ہے۔ نسخ جب بھی ہوتا ہے، ظاہری صورت میں ہوتا ہے، معنوی حقیقت کے اعتبار سے کسی حکم میں نسخ واقع نہیں ہوتا۔ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم نے مکہ میں کعبہ کی تعمیر کی۔ یہ کعبہ حج کا مرکز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو ان الفاظ میں اس کا حکم دیا: اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ وہ تمھارے پاس آئیں گے پیروں پر چل کر اور دُبلے اونٹوں پر سوار ہو کر جو کہ دور دراز راستوں سے آئیں گے (الحج: 27)
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues