Al-Risala · October 2007 · page 21

حاکم کا تقرر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۱

معاملہ دوسری نوعیت کے حکم سے تعلق رکھتا ہے۔

چناں چہ جہاں تک پہلی نوعیت کے احکام کا تعلق ہے، اُن کے بارے میں قرآن میں براہِ راست زبان میں احکام دیے گئے ہیں۔ مثلاً توحید کے بارے میں فرمایا کہ: قل هو الله أحد (الإخلاص: 1)، عبادت کے بارے میں فرمایا کہ: لا إله إلا أنا فاعبدنی (طٰہٰ: 14)، عدل اور انصاف کے بارے میں فرمایا: إنّ الله يأمركم بالعدل والإحسان (النّحل: 95)، مگر جہاں تک سیاسی اقتدار کا تعلق ہے، اس کے بارے میں کہیں بھی اس طرح براہِ راست حکم نہیں دیا گیا، یعنی کہیں بھی اس طرح کے الفاظ نہیں آئے کہ تم لوگ اسلامی حکومت قائم کرو، یا زمین میں اسلامی قوانین کو نافذ کرو، یہی امت کی حیثیت سے تمھارا نصب العين ہے۔ اس معاملے میں سیاست پسند افراد کی طرف سے جو دلائل دیے گئے ہیں، وہ سب کے سب قیاسی اور استنباطی ہیں، مگر اس قسم کے اساسی معاملے میں مبنی بر نص استدلال درکار ہے، نہ کہ مبنی بر قیاس استدلال۔

حاکم کا تقرر

تمام دنیا کے سیاسی نظاموں میں واضح طور پر یہ موجود رہتا ہے کہ حاکم کا تقرر کس طرح کیا جائے، مگر قرآن میں اس معاملے میں کوئی واضح حکم موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی زمانے کے مثالی دور میں جن خلفائے اسلام کا تقرر ہوا، اُن میں سے ہر ایک کا تقرر الگ الگ ڈھنگ سے ہوا، گویا کہ ان کا تقرر حالات کے مطابق ہوا، نہ کہ کسی مستقل اصول کے مطابق۔

اسلام کے دورِ اوّل کو ہر معاملے میں ایک معیاری دور مانا جاتا ہے۔ اُس زمانے میں چھ خلفاء ایسے تھے جن کو اسلام میں مثالی حکم راں کا درجہ حاصل ہے— ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، معاویہ بن ابی سفیان، عمر بن عبدالعزیز۔ ان میں سے ابتدائی پانچ خلفاء اصحاب رسول میں شامل تھے۔ چھٹے خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کا شمار اجلۂ تابعین میں سے ہوتا ہے۔ علماء نے بالاتفاق ان کو خلیفہ راشد کا درجہ دیا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ ان تمام خلفاء کا تقرر الگ الگ طریقے سے کیا گیا نہ کہ کسی ایک مقرر

‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues

Printed page