تعلیماتِ اسلام کے دو پہلو
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۰
درکار ہوتا ہے، قیاسی اور استنباطی استدلال اس طرح کے معاملے میں کبھی بناء استدلال نہیں بن سکتا۔ ان حضرات کا ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ غلط استنباط کے ذریعے ایک سادہ آیت، یا حدیث میں سیاسی مفہوم شامل کر دیتے ہیں۔ مثلاً دین کو اسٹیٹ کے ہم معنی بتانا، نماز یا جماعت کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ عسکری ٹریننگ ہے، روزے کو فوجی مشقت کی تربیت بتانا، وغیرہ۔ اس قسم کا استدلال سخت غیر علمی استدلال ہے۔ اگر اس قسم کے استدلال کو جائز استدلال قرار دیا جائے تو دنیا کی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو قرآن اور حدیث سے ثابت نہ کی جاسکے، حتیٰ کہ اس قسم کے استنباطی استدلال کے ذریعے اسلام کو ایک منسوخ دین بھی ثابت کیا جاسکتا ہے۔
اس سلسلے میں غیر علمی استدلال کی ایک اور قسم وہ ہے جس میں حرف عطف (واو) کی مدد سے بے بنیاد طور پر ایک غیر متعلق چیز کو اسلام کی کسی تعلیم میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً کچھ لوگوں نے اسی طریقے کے مطابق یہ کہا کہ شرک اعتقادی اور شرک عملی کے ساتھ شرک کی ایک اور قسم ہے اور وہ شرکِ سیاسی ہے۔ لا معبودَ إلّا اللہ کے ساتھ اُس کا ایک اور جز ہے اور وہ لا حاکمَ إلّا اللہ ہے۔ اسی طرح کہا گیا کہ عبادت کے لفظ میں پرستش کے سوا ایک اور مفہوم شامل ہے اور وہ اطاعت ہے، وغیرہ۔ مگر اس قسم کے تمام اضافے بلاشبہ بے حقیقت اور بے بنیاد ہیں۔
تعلیماتِ اسلام کے دو پہلو
مطالعہ بتاتا ہے کہ اسلامی تعلیمات کے دو بڑے پہلو ہیں۔ قدیم اصطلاح میں ان دونوں پہلوؤں کو ’حُسن لذاتہ‘ اور ’حُسن لغيره‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی کچھ چیزیں وہ ہیں جو اپنے آپ میں مطلوب ہوتی ہیں، اور کچھ چیزیں وہ ہیں جو کسی اور چیز کی نسبت سے مطلوب ہوتی ہیں۔ اس تقسیم کے مطابق، ذکر اللہ ’حسن لذاتہ‘ ہے اور قتال ’حسن لغيره‘۔
اس فرق کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ اسلام میں کچھ چیزیں وہ ہیں جو میٹر آف پرنسپل (matter of principle) کی حیثیت رکھتی ہیں، اور کچھ چیزیں وہ ہیں جن کی حیثیت میٹر آف کنوی نینس (matter of convenience) کی ہے۔ اس تقسیم کے مطابق، سیاسی اقتدار کا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues