Al-Risala · October 2007 · page 23

The greatest concern of Islam is Allah.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۳

کتاب معرفت ہے، نہ کہ کتاب سیاست۔ یہی بات قرآن کے موضوع کے مطابق ہے۔ قرآن کا موضوع خدائے برتر کا تعارف ہے۔ اور زمین و آسمان کے خالق و مالک کا تعارف جس کتاب میں بیان کیا جائے، اس کا سب سے زیادہ اہم موضوع بلا شبہ معرفت ہوگا، نہ کہ سیاست۔ سیاسی تعبیر کا نقصان اسلام کی سیاسی تعبیر کوئی سادہ بات نہیں، یہ خود اسلام کی نفی کے ہم معنی ہے۔ اس قسم کی تعبیر فطری طور پر لوگوں کا ذہن سیاسی بنا دیتی ہے۔ سیاسی موضوعات ہی اُن کے لیے سب سے زیادہ اہم موضوعات بن جاتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ معرفت ایک ایسا موضوع ہے جس کا نشانہ خود آدمی کا اپنا وجود ہوتا ہے۔ ایسے آدمی کی توجہ ہمیشہ اپنی اصلاح پر لگی رہتی ہے، اپنی شخصیت کی تعمیر اور اپنے آپ کو خدا سے وابستہ کرنا، یہی اس کا سپریم کنسرن بن جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں سیاست کا موضوع بالکل برعکس ذہن بناتا ہے۔ معرفت کی صورت میں سوچ کا نشانہ اگر داخلی تھا، تو سیاست کی صورت میں سوچ کا نشانہ خارجی بن جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس خارجی نشانے کی حیثیت آدمی کے لیے حریف کی ہوتی ہے۔ آدمی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اُس کی اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے سیاسی مد مقابل کو شکست دے اور اُس کے اوپر غلبہ حاصل کرے۔ معرفت کا نشانہ آدمی کے باطن کو خدا کی روشنی سے بھر دیتا ہے، اس کے اندر ہر قسم کی مثبت صفات پیدا ہونے لگتی ہیں۔ اس کے برعکس، سیاست کا نشانہ آدمی کے باطن کو ظلمات سے بھر دیتا ہے۔ اُس کا وجود ہر قسم کی منفی نفسیات کا جنگل بن جاتا ہے۔ یہاں پہنچ کر آدمی کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ بظاہر مکمل اسلام کی بولی بولتا ہے، لیکن عملاً اس کا وجود جزئی اسلام سے بھی خالی ہو کر رہ جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues

Printed page