جامع تصور یا تخریبی تصور
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۴
جامع تصور یا تخریبی تصور
کچھ لوگ اسلام کا جامع تصور پیش کر رہے ہیں ۔ اُن کا کہنا ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ اسلام میں صرف عقیدہ اور عبادت اور اخلاق شامل نہیں ہیں، بلکہ پولیٹکل سسٹم بھی اس کا لازمی جز ہے۔ پولیٹکل سسٹم کو قائم کیے بغیر اسلام ادھورا رہتا ہے، وہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ بظاہر اسلام کا جامع تصور ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف ایک تخریبی تصور ہے۔ موجودہ زمانے کی مسلم ملیٹنسی (Muslim militancy) اسی نام نہاد جامع تصور کی براہ راست پیدا وار ہے۔
آپ اسلام کے عقیدے کو مانیں، اسلامی طریقے پر عبادت کریں، اسلام کے اخلاقی اصولوں کی پابندی کریں تو یہ آپ کا ایک ذاتی عمل ہوتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے کسی اور کے ساتھ آپ کا ٹکراؤ پیش نہیں آتا، لیکن جب آپ اپنا نشانہ یہ بنائیں کہ مجھے زمین پر اسلامی حکومت قائم کرنا ہے تو یہ نشانہ فوراً آپ کو دوسرے سے ٹکرا دیتا ہے۔ اس لیے کہ پولیٹکل اقتدار کوئی خالی سیٹ نہیں ہے جس پر جا کر آپ بیٹھ جائیں ۔ پولیٹکل اقتدار ہمیشہ کسی کے قبضے میں ہوتا ہے، اس لیے پولیٹکل گدی کو حاصل کرنے کے لیے فورا ً دوسروں سے ٹکراؤ پیش آتا ہے۔ اس طرح آپ کا نشانہ آپ کے اندر یہ ذہن پیدا کرتا ہے کہ آپ اقدام کرکے قابض لوگوں سے اقتدار کی کنجیاں چھین لیں۔ اقتدار کی کنجیوں کو چھیننے کا یہ نظریہ قدرتی طور پر دو گروہوں کے درمیان تشدد اور ٹکراؤ کی صورت پیدا کر دیتا ہے۔ پھر یہ بات اتنی سادہ نہیں۔ جب آپ یہ دیکھتے ہیں کہ اقتدار کی کنجیوں کو چھیننے کی کوشش میں آپ ایسا نہیں کر سکے کہ ارباب اقتدار کو ان کی گدیوں سے ہٹا دیں، کیوں کہ ارباب اقتدار کے پاس پولیس اور فوج کی طاقت ہوتی ہے، آپ اس پوزیشن میں نہیں ہوتے کہ اُن سے براہ راست ٹکراؤ کرکے سیاسی ادارے پر قبضہ کرلیں، چناں چہ آپ اپنے اس اقدام میں ناکام رہتے ہیں۔ اقتدار کی کنجیوں کو چھیننے کا یہ ناکام تجربہ آپ کے اندر ایک اور برائی پیدا کرتا ہے۔ اب آپ معصوم عوام پر گولیاں چلاتے ہیں، ہوائی جہاز کی ہائی جیکنگ کرتے ہیں، اسکول اور بازار میں بم مارتے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues