جامع تصور یا تخریبی تصور
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۶
اسلام کی مثال درخت کی مانند ہے ۔ چناں چہ قرآن میں ایمان اور اسلام کی مثال شجرۂ طیبہ (ابراهيم: 24) سے دی گئی ہے ۔ جس طرح درخت ایک بیج سے ترقی کر کے درخت بنتا ہے، اسی طرح اسلام ایک کلمہ سے ترقی کر کے پورا وجود بنتا ہے ۔ اسلام کے بارے میں صحیح تشریح یہ ہے کہ اُس کو حقیقی تصور کی اصطلاح میں بیان کیا جائے، نہ کہ جامع تصور کی اصطلاح میں ۔ درخت کی اصلاح کے لیے اگر کوئی شخص ایسا کرے کہ اُس کی پتیوں کو کاٹے، اُس کی شاخوں پر محنت کرے، اُس کے تنّے پر زور آزمائی کرے تو اس قسم کی تمام چیزیں درخت میں کوئی اصلاح یا ترقی نہیں لائیں گی، بلکہ وہ درخت کی تباہی کا ذریعہ بنیں گی ۔ اس قسم کی کوششوں کے نتیجے میں درخت مزید شاداب نہیں ہوگا، بلکہ وہ سُوکھ کر رہ جائے گا ۔
یہی معاملہ دین کا ہے ۔ دین کی اصل تعلق باللہ ہے۔ اِسی کے ساتھ دین کے بہت سے ظواہر ہیں ۔ اگر کوئی شخص ظواہر کو اہمیت دے کر اُس میں محنت کرے، یا پر تشدد جد و جہد کرے تو اِس سے دین میں کوئی بہتری نہیں آئے گی، بلکہ دین کا معاملہ کچھ اور بگڑ جائے گا، حتیٰ کہ اگر اچھی نیت اور اخلاص کے ساتھ ایسا کیا جائے تب بھی دین یا اہلِ دین میں کوئی حقیقی اصلاح آنے والی نہیں ۔ دین یا اہلِ دین میں ترقی کا کام یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر حقیقی معنوں میں تعلق باللہ پیدا کیا جائے ۔ لوگوں کے اندر ربانی شعور کو جگایا جائے ۔ لوگوں کو خدا کی پکڑ سے ڈرنے والا بنایا جائے ۔ یہی وہ چیز ہے جو دین یا اہلِ دین کے اندر حقیقی معنوں میں کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرے گی ۔ اِس بنیادی کام کے بغیر ہرگز مطلوب نتیجہ نکلنے والا نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues