Al-Risala · October 2007 · page 25

جامع تصور یا تخریبی تصور

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۵

ہیں۔ اس منفی کارروائی کی آخری حد یہ ہوتی ہے کہ آپ خود کش بم باری (suicide bombing) شروع کر دیتے ہیں۔ اقتدار کی کنجیوں کو چھیننے کا جو اقدام دوسروں کے خلاف تشدد سے شروع ہوا تھا، وہ خود اپنے آپ کو ہلاک کرنے تک پہنچ جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں مختلف مقامات پر جو مسلم ملیٹنسی جاری ہے، وہ براہِ راست طور پر اسلام کے اسی نام نہاد جامع تصور کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اصلاً اپنے آپ کو خدا کے احکام کا پابند بنانے کا نام ہے۔ جہاں تک اجتماعی نظام میں اسلام کے سیاسی اور قانونی احکام کے نفاذ کا سوال ہے، وہ تمام تر حالات پر منحصر ہے۔ سماج اگر ان احکام کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو تو پر امن کوششوں کے ذریعے ان احکام کی بجا آوری کی جائے گی، ورنہ نہیں۔ اسلام کا اصول، تکلیف بقدر وسعت (البقرۃ: 286) کا اصول ہے۔ اجتماعی احکام کے نفاذ کے لیے اجتماعی ارادہ (social will) درکار ہے۔ گن اور بم کی طاقت سے یہ کام کبھی انجام نہیں پا سکتا۔ گن اور بم کا طریقہ صرف تباہ کن تشدد پیدا کرتا ہے، اس منفی انجام کے سوا اس کا کوئی اور انجام نہیں۔

جامع تصور کی غلطی کو واضح کرنے کے لیے یہاں میں ایک مثال دوں گا۔ چیزیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک مکان اور دوسرے، درخت۔ اگر آپ مکان کا ایک جامع تصور دیں اور یہ کہیں کہ جامع مکان وہ ہے جس میں برآمدہ ہو، بیڈروم ہو، ملاقات کا کمرہ ہو، کچن ہو، باتھ روم ہو، وغیرہ، تو مکان کے بارے میں آپ کا یہ بیان درست ہوگا، کیوں کہ مکان مختلف الگ الگ اجزا کا مجموعہ ہوتا ہے۔ جس مکان میں اس کا ہر جز موجود ہو، اس کو ایک جامع مکان کہا جائے گا۔

لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ درخت کا جامع تصور یہ ہے کہ اس کے اندر جڑیں ہوں، تنا ہو، شاخیں ہوں، پتیاں ہوں، پھل اور پھول ہوں، تو یہ ایک غلط بات ہوگی، کیوں کہ درخت مختلف الگ الگ اجزا کو ملا کر نہیں بنتا، بلکہ وہ ایک بیج کے نشو و نما (growth) سے وجود میں آتا ہے۔ اس لیے درخت کے بارے میں جامع تصور نہیں پیش کیا جائے گا، بلکہ سارا زور اس پر دیا جائے گا کہ اس کا بیج ایک صحت مند بیج ہو، کیوں کہ صحت مند بیج کے ظہور ہی کا دوسرا نام درخت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues

Printed page