Al-Risala · October 2007 · page 30

عقیدہ اور سیاست

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۰

عقیدہ اور سیاست

دین اسلام کے دو بڑے حصے ہیں۔ ایک حصہ وہ ہے جس کا تعلق ابدی عقیدے سے ہے، اور دوسرا حصہ وہ ہے جو حالات کے تابع ہوتا ہے، اس لیے اس میں تغیر ہو سکتا ہے۔ پہلا حصہ حقیقی (real) ہے، اور دوسرا حصہ اضافی (relative)۔ پہلے حصے کو میٹر آف بلیف (matter of belief) کہیں گے، اور دوسرے حصے کو میٹر آف کنوی نینس (matter of convenience) کہیں گے۔

عقیدے سے مراد، توحید اور رسالت اور آخرت کا عقیدہ ہے، عبادت بھی اسی میں شامل ہے۔ میٹر آف کنوی نینس میں جو چیزیں شامل ہیں، اُن میں سے ایک سیاست اور حکومت ہے۔ عقیدہ اور عبادت میں ابدیت (eternity) ہے، ان کی مطلوبیت دائمی ہے۔ لیکن سیاست اور حکومت کا معاملہ اُس سے الگ ہے۔ جیسے حالات ہوں گے اُسی کے مطابق، سیاست اور حکومت کے معاملات بھی ہوں گے۔

اسلام میں سیاست کو عقیدے کا مسئلہ نہیں بنایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں قائم شدہ حکومت کے خلاف خروج (revolt) کرنا حرام ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جب ایک حکومت قائم ہو جائے تو اُس کے خلاف ہرگز باغیانہ کارروائی نہ کی جائے، بلکہ اس کے ساتھ معتدل تعلقات قائم رکھتے ہوئے غیر سیاسی دائروں میں کام کیا جائے، مثلاً دعوت، تعلیم اور اصلاحی کام، وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں خلیفہ کے تقرر کا کوئی متعین اصول موجود نہیں۔ اس معاملے میں قرآن میں کوئی ہدایت نہیں دی گئی۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ کو معیاری زمانہ مانا جاتا ہے۔ اس زمانے میں چھ برحق خلیفہ، یا حکم رَاں ہوئے ــــ ابو بکر صدیق، عمر فاروق، عثمان بن عفان، علی ابن ابی طالب، معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم اور عمر بن عبدالعزیز۔

جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، ان میں سے ہر خلیفہ یا حکم رَاں کا تقرر الگ الگ ڈھنگ سے کیا گیا۔ یہ واضح طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں سیاسی ادارے کے متعلق کوئی متعین نقشہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues

Printed page