Al-Risala · October 2007 · page 31

عقیدہ اور سیاست

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۱

موجود نہیں۔ حالاں کہ ہر سیاسی دستور میں اس کا واضح ڈھانچہ موجود ہوتا ہے۔ اس صورتِ حال کا سبب یہ ہے کہ اسلام کا سب سے بڑا کنسرن خدا ہے۔ اسلام کے نزدیک سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انسان خدا کی معرفت حاصل کرے۔ وہ خدا کا سچا عبادت گزار بنے۔ وہ اعلیٰ اخلاق کے ساتھ لوگوں کے درمیان رہے۔ اِسی کے ساتھ وہ لوگوں کو خدا کے دین کی طرف بلائے۔ وہ خالص غیر سیاسی انداز میں اسلام کا داعی بن جائے۔ وہ اصلاح اور تعلیم کے دائرے میں لوگوں کی خدمت کرے۔

سیاسی اقتدار کا قیام اسلام کا نشانہ نہیں۔ قرآن کے مطابق، سیاسی اقتدار کی حیثیت پر چۂ امتحان کی ہے، اُس کا معاملہ مال جیسا ہے۔ مال انسان کے لیے امتحان کا پرچہ ہے، اس لیے مال کبھی ایک انسان کے پاس ہوتا ہے اور کبھی دوسرے انسان کے پاس۔ کیوں کہ خدا کو ہر انسان کا ٹیسٹ لینا ہے۔ اگر مال و دولت کو ابدی طور پر کسی ایک فرد یا گروہ کا حصہ بنا دیا جائے تو مال کی نسبت سے دوسرے لوگوں کی آزمائش نہ ہو سکے گی، حالاں کہ ایسا ہونا خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف ہے۔ یہی معاملہ سیاسی اقتدار کا ہے۔ سیاسی اقتدار بھی امتحان کا ایک پر چہ ہے۔ سیاسی اقتدار کسی اس لیے دیا جاتا ہے کہ اُس کو آزما کر دیکھا جائے کہ وہ اقتدار پا کر کیسا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی اقتدار کسی ایک فرد یا گروہ کے ہاتھ میں نہیں رہتا، بلکہ وہ مختلف لوگوں کے درمیان گردش کرتا رہتا ہے۔ اِس اصول کو قرآن میں اِن الفاظ میں بتایا گیا ہے: تلک الأیّام نداولھا بین الناس (آل عمران: 140) اسلام میں سیاسی اقتدار کا مطلق طور پر مطلوب نہ ہونا کوئی کمی کی بات نہیں، یہ انسانی فلاح کے لیے بے حد اہم اصول ہے۔ انسانوں کے درمیان تمام بڑے بڑے جھگڑے سیاسی اقتدار کو لے کر ہوتے ہیں۔ اِس لیے سیاسی اقتدار کے معاملے میں اسلام نے اسٹیٹس کو ازم (statusquoism) کا اصول اختیار کیا ہے۔ اِس اصول کا فائدہ یہ ہے کہ سماج میں امن قائم رہتا ہے۔ لوگ جنگ اور تشدد سے بچ کر اصلاح اور تعمیر کے کام میں زیادہ سے زیادہ مشغول رہتے ہیں۔ اِس بات کو دوسرے لفظوں میں اِس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ اسلام میں بالواسطہ سیاست ہے، نہ براہِ راست سیاست۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues

Printed page