الرسالة
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۳
سیکولرازم کے معاملے میں جو لوگ منفی ذہن رکھتے ہیں، اُس کا سبب یہ ہے کہ وہ دو چیزوں میں فرق نہیں کرتے۔ وہ سیکولر فلاسفی اور سیکولر پالیسی، دونوں کو ایک کر کے دیکھتے ہیں۔ حالاں کہ اس معاملے میں درست رائے قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھا جائے۔ سیکولرازم کے بارے میں منفی ذہن رکھنے والے لوگ ایک اور غلط فہمی کا شکار ہیں۔ وہ سیکولر پالیسی کو صرف مشترک مادی امور تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ وہ اس کو مذہبی مخالفت کے ہم معنی سمجھ لیتے ہیں۔ حالاں کہ موجود زمانے میں سیکولر حکومت کا مطلب مخالف مذہب حکومت نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ حکومت مذہبی امور میں عدم مداخلت (non-interference) کی پالیسی کی پابند ہے۔ اس معاملے میں ساری غلط فہمی اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ ان لوگوں نے عدم مداخلت کو مخالفت کے ہم معنی سمجھ لیا۔ اس معاملے کا ایک پہلو اور ہے، وہ یہ کہ مذہبی آزادی کے اصول میں بیک وقت دو قسم کی آزادی شامل ہے—مذہبی عمل اور مذہبی تبلیغ۔ موجودہ زمانے کے تمام سیکولر ملکوں میں یہ دونوں قسم کی آزادی لوگوں کو مکمل طور پر ملی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مذہبی گروہ انفرادی طور پر اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے دوسرے مذہبی گروہوں کے درمیان اپنے مذہب کی پرامن تبلیغ پوری طرح جاری رکھ سکتا ہے۔ یہ آزادی اس حد تک حقیقی ہے کہ ان ملکوں میں بہت سے لوگ اپنا مذہب بدل لیتے ہیں اور ان پر حکومت کی طرف سے کوئی پابندی عائد نہیں کی جاتی ہے۔ مثلاً حال میں انڈیا میں پست طبقے کے ایک لاکھ ہندوؤں نے بدھ ازم کو قبول کر لیا۔ اسی طرح امریکا میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ امریکی، اسلامی مذہب کو اختیار کرتے ہیں۔
اس اعتبار سے دیکھیے تو سیکولر پالیسی کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مذہبی گروہ ہر وقت انفرادی دائرے میں اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے یہ کوشش کر سکتا ہے کہ وہ دوسروں کے فکر اور عقیدے کو بدل سکے۔ یہ تبدیلی اگر بڑے پیمانے پر ہو جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ ملک کی اکثریت اپنے فکر اور عقیدے کو بدل لے۔ اس طرح ایسا ہو کہ جو مذہبی فکر، حال میں انفرادی دین کی حیثیت رکھتا ہے، وہ مستقبل میں اجتماعی دین کا درجہ حاصل کرلے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues