فتویٰ کا غلط استعمال
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۴
فتویٰ کا غلط استعمال
ریاست جموں اور کشمیر میں اکثر، فوج اور تشدد پسندوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر تشدد پسند لوگ عموماً ایسا کرتے ہیں کہ وہ مذہبی عمارتوں میں داخل ہو کر وہاں پناہ لے لیتے ہیں اور وہاں سے اپنی کارروائیاں کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دونوں طرف سے گولیاں چلتی ہیں اور فطری طور پر مذہبی عمارت کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہ صورت حال وادی کے مدرسے اور مسجد اور درگاہ، وغیرہ میں عرصے سے جاری ہے۔
ہندوستانی فوج نے اس صورتِ حال کے پیشِ نظر عرصے سے کشمیر میں سد بھاونا آپریشن کے نام سے ایک مہم چلا رکھی ہے۔ اُن کے پاس گورنمنٹ آف انڈیا کا فنڈ ہوتا ہے۔ وہ لوگ اس کی مدد سے مسجد اور مدرسہ اور خانقاہ کی عمارتوں میں ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرتے ہیں اور اُس کو پھر سے درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ کام کشمیر میں کئی سالوں سے جاری ہے۔
جون 2007 میں سری نگر کے علاقہ راجوری کدُل میں علما کی ایک کانفرنس ہوئی۔ اس میں کشمیری مسلمانوں کے مذہبی رہنما 350 کی تعداد میں شریک ہوئے ۔ یہاں انھوں نے فتویٰ یا بیان کی صورت میں متفقہ طور پر ایک ریزولوشن پاس کیا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ مسجد کی مرمت غیر مسلموں کے ہاتھ سے کرنا، اسلام میں حرام ہے۔ اس لیے سد بھاونا آپریشن کا یہ کام دین میں مداخلت کی حیثیت رکھتا ہے، گورنمنٹ آف انڈیا کو چاہیے کہ وہ اس کام کو فوراً بند کرے۔
یہ فتویٰ یا بیان سرتا سر بے بنیاد ہے، یہ اسلام کو اپنے سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے، اِس کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام کی تاریخ میں، اور خود ہندوستان میں ایسا برابر ہوتا رہا ہے کہ غیر مسلم لوگوں کے تعاون سے مسجدیں بنائی گئی ہیں یا اُن کی مرمت کا کام ہوا ہے، مگر علما نے کبھی اس کام کو غلط نہیں بتایا۔
اس معاملے میں سب سے بڑی مثال خود کعبہ کی ہے، جو گویا کہ تمام مسجدوں کا نمائندہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues