Al-Risala · January 2007 · page 46

خاتمہ کلام

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۴۶

گویا ایک بہت بڑا خطرہ مول رہا ہے۔ یہ خطرہ کہ وہ فکری آلودگی کا شکار ہو کر رہ جائے ، اس کو کبھی معرفت کا اعلیٰ درجہ حاصل نہ ہو سکے۔

مذکورہ خط و کتابت سے واضح ہوتا ہے کہ میرے حالیہ تجربے کے مطابق ، اس معاملے میں صرف دو حضرات کا استثنا ہے۔ ایک ، مولانا عبدالکریم پاریکھ صاحب کا، اور دوسرے، مولانا ظفر یف شہباز ندوی کا۔ مولانا ظفر یف شہباز ندوی نے اس معاملے میں صحیح اسلامی اسپرٹ کا ثبوت دیا ہے۔ اور مولانا عبدالکریم پاریکھ صاحب نے جس طرح کھلے دل کے ساتھ معاملے کی وضاحت فرمائی ہے، وہ بلاشبہہ ان کی ایمانی عظمت کا ثبوت ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان حضرات کی ہر طرح مدد فرمائے اور ان کو دنیا اور آخرت کی ابدی سعادتوں سے نوازے۔ اس خط و کتابت کے دوران ایک اور نہایت اہم حقیقت واضح ہوئی ۔ وہ یہ کہ ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ تقریبا بلا استثنا، شعوری یا غیر شعوری طور پر ایک بہت بڑی کمزوری میں مبتلا ہے ، اور وہ ہے قصیدے کی زبان میں کلام کرنا۔ قدیم زمانے میں بادشاہوں کے لیے مدحیّہ قصیدے لکھے جاتے تھے۔ ان قصیدوں میں محض خیالی اور فرضی طور پر بہت بڑی بڑی باتیں اپنے ممدوح کے ساتھ منسوب کر دی جاتی تھیں۔ یہ شعراء کبھی یہ نہیں سوچتے تھے کہ اُن کی باتیں حقائق سے تعلق رکھتی ہیں یا نہیں۔ یہی انداز کلام بعد کو ہمارے یہاں نثر میں بھی رائج ہو گیا۔ اور عربی اور فارسی تینوں زبانوں میں قصیدے کی زبان میں مدحیہ نثر لکھی جانے لگی ۔ اپنی پسندیدہ شخصیتوں کے لیے لوگ ایسے الفاظ لکھنے اور بولنے لگے جن کا حقیقت واقعہ سے کوئی تعلق نہ تھا۔

زیر نظر خط و کتابت ایک چشم کشا خط و کتابت ہے۔ یہ خط و کتابت لوگوں کو بتا رہی ہے کہ وہ کس طرح نثر میں مدحیہ قصائد لکھنے میں مشغول ہیں۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اسلوب پر نظر ثانی کریں ، اور مدح نگاری کے بجائے حقیقت نگاری کو اپنا اسلوب بنائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page