خاتمہ کلام
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۴۵
خاتمہ کلام
اس قسم کا تجربہ مجھے بار بار ہوا ہے۔ بار بار ایسا ہوا ہے کہ ایک شخص اپنی تقریر یا تحریر میں ایک بہت بڑی بات بظاہر پورے یقین کے ساتھ کہتا ہے، لیکن جب اُس سے اس کا حوالہ دریافت کیا جائے تو وہ اس کا کوئی حوالہ نہیں دے پاتا، اور نہ وہ اس کا کھلا اعتراف کرتا ہے۔ اس قسم کے بیانات نہایت غیر علمی ہیں۔ علمی اعتبار سے ان کا کوئی وزن نہیں۔ مگر یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ اس قسم کا مزاج بتاتا ہے کہ آدمی اپنے حق میں ایک بہت بڑے نقصان کو برداشت کر رہا ہے۔ اس قسم کا مزاج ذہنی ترقی کے راستے میں مستقل رکاوٹ ہے۔ جو آدمی ذہنی ترقی کا حریص ہو، اس کو چاہیے کہ وہ کبھی بھی ایسی کوئی بات نہ کہے جس کے حق میں اس کے پاس ضروری دلیل موجود نہ ہو۔ اگر وہ کبھی بھول کر کوئی بے بنیاد بات کہہ دے تو وضاحت کے بعد اس کو چاہیے کہ وہ فوراُ ہی اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کرے۔ ان دو کے سوا کوئی تیسرا طریقہ انسان کے لیے درست نہیں۔ تیسرا طریقہ ہلاکت کا طریقہ ہے نہ کہ زندگی کا طریقہ۔ اہل علم کا طبقہ ذہن ساز طبقہ (opinion-maker class) ہوتا ہے۔ اہل علم کی تقریروں اور تحریروں سے لوگ اپنا ذہن بناتے ہیں۔ یہ پہلو مزید تقاضا کرتا ہے کہ اہل علم مذکورہ معاملے میں بہت زیادہ محتاط ہوں۔ کیوں کہ اس پہلو سے ان کی پکڑ دُگنا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے ساتھ عوام کی بے راہ روی کے بھی ذمہ دار قرار پاتے ہیں۔ کتنا زیادہ سنگین ہے یہ معاملہ۔ حقیقت یہ ہے کہ غلطی کا اعتراف ایسے لوگوں کے لیے اَہون البلیّتین (lesser evil) کی حیثیت رکھتا ہے۔
غلطی کا اعتراف سادہ معنوں میں صرف غلطی کا اعتراف نہیں ہے، وہ اس سے زیادہ ہے۔ غلطی کے اعتراف کا معاملہ آدمی کی خود اپنی علمی اور دینی شخصیت کی تعمیر سے جُڑا ہوا ہے۔ غلطی کا اعتراف نہ کرنا آدمی کے اندر روحانی اور ذہنی ارتقاء کو روک دیتا ہے۔ اس کے برعکس، غلطی کا اعتراف آدمی کے اندر روحانی اور ذہنی ارتقاء کے عمل کو بڑھاتا ہے۔ غلطی کا اعتراف نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے ذہن میں صحیح اور غلط دونوں ملی جلی حالت میں پڑے رہیں۔ اسی کا نام کنفیوژن ہے۔ لیکن جب آدمی اپنی غلطی کو کھلے طور پر مان لے تو اس کے ذہن میں صحیح اور غلط دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔ اب آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ صحیح کو صحیح سمجھے، اور جو غلط ہے وہ اس کو غلط نظر آئے۔ یہ عمل آدمی کو کنفیوژن سے نکال کر فکرِ صحیح کے درجے میں پہنچا دیتا ہے۔ غلطی کا اعتراف دراصل فکری تطہیر کا عمل ہے۔ جس آدمی کے ذہن میں فکری تطہیر کا یہ عمل جاری نہ ہو وہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues