Al-Risala · November 2007 · page 3

اسماۂ حسنیٰ اور اسم اعظم

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳

بلکہ اس سے مراد اسماء حسنیٰ کا عارفانہ ادراک ہے۔ عربی کے مشہور لغت 'المعجم الوسیط' میں اس کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أحصی الشیئ: أی عرف قدرہ۔ ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہاں 'احصاء' سے مراد احصاء شعوری ہے، نہ کہ احصاء لسانی، یعنی اسماء حسنیٰ کی معرفت۔ اللہ کے یہ نام دراصل اللہ کی صفات کے مختلف پہلو ہیں۔ آدمی خدا پر اور اس کی تخلیقات پر غور کرتا ہے تو خدا کی خدائی کے مختلف پہلو اس کے سامنے آتے ہیں۔ انھیں پہلوؤں کا شعوری ادراک ہونا، اُن کا احصاء کرنا ہے۔ اور جو لوگ اس اعتبار سے خدا کی معرفت حاصل کریں، وہ بلاشبہ جنت میں جائیں گے، کیوں کہ جنت دراصل معرفتِ خداوندی کی قیمت ہے۔

حدیث میں ننانوے کا لفظ محض اعتباری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بے شمار نام ہیں۔ امام رازی نے اپنی تفسیر میں بعض علما سے نقل کیا ہے کہ: إنّ لله خمسة الالاف إسم۔ یعنی اللہ کے پانچ ہزار نام ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ (19)، مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بے شمار نام ہیں۔ حدیث میں اسماء حسنیٰ کی تعداد ننانوے بتائی گئی ہے۔ قرآن کا مطالعہ کرکے علما نے یہ تمام اسماء حسنیٰ نام بہ نام دریافت کیے ہیں، لیکن یہ نام خدا کے لامتناہی کمالات کی مطلق گنتی کو نہیں بتاتے۔ یہ تمام نام دراصل انسان کی نسبت سے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر جب عبدیت جاگتی ہے اور شعورِ خداوندی اُس کے اندر بیدار ہوتا ہے تو فطری طور پر اُس کے اندر مختلف قسم کی ربانی کیفیات پیدا ہونے لگتی ہیں۔ اسماء حسنیٰ دراصل، انھیں ربانی کیفیات کے لیے موزوں الفاظ (appropriate words) کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مثلاً انسان اپنے وجود پر غور کرتا ہے، جو کہ احسن تقویم کا نمونہ ہے (التین: 4)۔ وہ نیچر پر غور کرتا ہے، جس میں ہر چیز حیرت انگیز طور پر اپنے آخری ماڈل پر ہے۔ وہ زمین اور آسمان پر غور کرتا ہے، جس میں کہیں کوئی خلل یا نقص موجود نہیں (الملک (3)۔ یہ سوچ اور یہ مشاہدہ آدمی کے اندر ایک پُرتموج تجربہ (thrilling experience) پیدا کرتا ہے۔ اُس وقت آدمی بے اختیارانہ طور پر یہ چاہنے لگتا ہے کہ اُس کے پاس ایسے موزوں الفاظ ہوں، جن کے ذریعے وہ ان لطیف احساسات کا اظہار کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues

Printed page