خدا کے نام میں الحاد
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۴
کر سکے۔ اُس وقت ، قرآن اُس کی عین طلب کے مطابق، اُس کو یہ الفاظ فراہم کر دیتا ہے: فتبارک اللہ احسن الخالقین (المؤمنون: 14)
خدا کے نام میں الحاد
خدائی صفات کی یہ تعداد دراصل الحاد کے مقابلے میں بتائی گئی ہے، جیسا کہ خود قرآن میں آیا ہے (الأعراف: 180)۔ الحاد کے معنی انحراف (deviation) کے ہیں۔ یہ الحاد یا انحراف سب سے زیادہ فلسفے میں کیا گیا ہے۔ فلسفے میں خدا کا تصور ایک بے صفاتی شخصیت (attributeless being) کے طور پر کیا گیا ہے۔ اسی فلسفیانہ تصور کے زیر اثر، ہندوازم میں نراکار خدا (formless god) کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔ مشہور جرمن فلسفی فریڈرک ہیگل (Friedrich Hegel) نے اس کو روحِ عالم (world spirit) کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ایک اور فلسفی نے اس کو مجرد تصور (abstract idea) قرار دیا ہے۔ یہ فلسفیانہ تصور، بعض بڑے مذاہب کی اعتقادیات میں بھی داخل ہو گیا۔ اس تصور کے مطابق، خدا کی کوئی مستقل اور علاحدہ شخصیت نہیں۔ وہ ایک بے شخصیت اور بے صفات ہستی ہے، یعنی زمین کی قوت کشش (gravity) یا کاسمک ریز (cosmic rays) کی طرح۔ قرآن میں اسماءِ حسنیٰ کا بیان دراصل اسی فلسفیانہ گمراہی کی تردید کے طور پر آیا ہے، نہ کہ اسماءِ الہیٰ کی متعین تعداد کو بتانے کے لیے۔ فلسفے میں یا اُس سے متاثر مذاہب میں خدا کا تصور خالق کے طور پر نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس تصور کے مطابق، تخلیق کے تمام مظاہر خود خدا کا اپنا ظہور ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک مجرد فلسفیانہ قیاس ہے۔ یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ کائنات میں متنوع مظاہر پائے جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ صرف ایک بے بنیاد قیاس ہے کہ ایک ایسا مفروضہ خدا، جو ہر قسم کی صفات سے کلی طور پر خالی ہو، وہ متنوع تخلیقات کی صورت میں ظاہر ہو جائے۔ اس قسم کے تضادات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا کا مذکورہ تصور محض ایک فلسفیانہ قیاس ہے، اُس کے حق میں کوئی علمی بنیاد موجود نہیں۔
سائنسی مطالعہ
موجودہ زمانے میں فطرت کے سائنسی مطالعے کے بعد خدا کے متعلق یہ فلسفیانہ تصور عملاً بے اصل
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues