اسماء حسنی: خدا کا تصوراتی ماڈل
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۸
ایسا کرے تو اس طرح اُس کے جذبات کی تسکین نہیں ملے گی۔ اپنے بچے کے ساتھ اس کا کوئی تعلق قائم نہیں ہوگا۔ اگر کوئی ماں ایسا کرے تو اُس کے لیے اپنے بچے سے تعلق محض ایک ظاہرداری کی رسم بن جائے گی۔ اس طرح کی ظاہر دارانہ رسوم کسی بھی درجے میں ماں اور بچے کے درمیان لطیف تعلق کا بدل نہیں سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کسی ماں نے ایسا نہیں کیا۔ ماں اپنے دور کے بیٹے سے ہمیشہ تصوراتی تعلق قائم کرتی ہے، وہ اس کی مورتی بنا کر اس کے ذریعے اپنے بچے سے تعلق قائم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔
اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ خدا کے نام پر خدا کے بت بنانا کتنا زیادہ بے اصل بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جو لوگ خدا کے نام پر بتوں کی پوجا کرتے ہیں، یا جو لوگ خدا کے نام پر قبروں اور درگاہوں کے آگے جھکتے ہیں اور پھول اور چادر چڑھاتے ہیں، وہ خدا کے ساتھ حقیقی تعلق سے بالکل محروم ہوتے ہیں، وہ ہمیشہ کچھ ظاہری رسوم میں جیتے رہتے ہیں، خدا کے ساتھ تعلق کی لطیف حقیقت سے وہ کبھی آشنا نہیں ہوتے۔ خدا اُن کے لیے محض ایک بے روح لفظ ہوتا ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
اسماء حسنی: خدا کا تصوراتی ماڈل
اسماء حسنی کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ اسماء حسنی کے ذریعے آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں خدا کا تصور اپنے ذہن میں لائے، وہ حقیقی طور پر خدا سے مربوط ہو سکے۔ بت پرستی کے مذہب میں انسان، خدا کے فزیکل ماڈل (physical model) بناتا ہے۔
اس قسم کے ماڈل بنانا ایک سنگین انحراف ہے، وہ خدا پرستانہ کلچر کو ایک بے روح رسم بنا کر رکھ دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصنام کلچر یا درگاہ کلچر خدا کی خدائی کا کم تر اندازہ (underestimation) ہے۔ بت پرستی کے کلچر میں یا قبر پرستی کے کلچر میں اعلیٰ خدائی اخلاقیات کبھی پرورش نہیں پا سکتے۔ اسماء حسنیٰ گویا کہ اسی غلطی کی تصحیح ہیں۔ اسماء حسنیٰ کے ذریعے انسان کو خدا کا تصوراتی ماڈل (conceptual model) مل جاتا ہے۔ اور بلاشبہہ خدا کا تصوراتی ماڈل ہی صحیح ماڈل ہے۔ اسماء حسنیٰ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues