اسماء حسنی: خدا کا تصوراتی ماڈل
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۹
کی شکل میں آدمی اُن صحیح الفاظ کو پالیتا ہے جن کے ذریعے وہ خدا سے تصوراتی ربط قائم کرسکے۔ اسماء حسنیٰ کے ذریعے خدا سے جو تعلق قائم ہوتا ہے، وہ ایک زندہ اور معلوم تعلق ہوتا ہے۔ مثلاً انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ خدا ایک ہو اور وہ زندہ اور قائم خدا ہو۔ اب جب وہ کہتا ہے کہ: الله لا إله إلا هو الحي القيوم (ال عمران: 2) تو وہ عین اپنی فطری مانگ کے مطابق، فوراً خدا کا ایک حقیقی ماڈل پالیتا ہے۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اور خدا کے درمیان ایک زندہ تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ اس اعتبار سے اسماء حسنیٰ، خدا اور انسان کے درمیان تصوراتی ربط (contact at conceptual level) کا زندہ اور حقیقی ذریعہ ہیں۔ وہ انسان کی فطری تلاش کا ایک بھر پور جواب (complete response) ہیں۔
اسماء حسنیٰ، انسان کے لیے خدا کا مستند تعارف ہیں۔ اسماء حسنیٰ کے ذریعے انسان، خدا کی صفاتی شخصیت کا یقینی تصور اپنے ذہن میں لاسکتا ہے۔ اسماء حسنیٰ خدا کا وہ تصوراتی ماڈل ہے جو کسی انسانی قیاس پر قائم نہیں، بلکہ وہ خود خدا کے الہامی علم پر قائم ہے۔ وہ اعتقادی بے یقینی میں بھٹکے ہوئے انسان کو یقین کا سر چشمہ عطا کرتا ہے۔ اسماء حسنیٰ کے ذریعے انسان اُس صحیح فریم ورک کو پالیتا ہے جس کی روشنی میں وہ خدا کو اپنے لیے پوری طرح قابل فہم (understandable) بناسکے۔ اسماء حسنیٰ اور دیگر مذاہب اسماء حسنیٰ کا مطالعہ تاریخی نقطہ نظر سے کیا جائے تو ایک انوکھی چیز دریافت ہوگی، وہ یہ کہ اسماء حسنیٰ کا تصور (concept) اسلام کے سوا کسی اور موجودہ مذہب یا کسی اور موجودہ اعتقادی نظام میں نہیں پایا جاتا۔ یہ اسلام کی استثنائی صفت ہے کہ اُس کے اندر خدا کے بارے میں اسماء حسنیٰ کا تصور پایا جاتا ہے۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اگر آپ اسلام اور دوسرے مذاہب کا تقابلی مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ بے حد سنگین بات ہے۔ چناں چہ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام کے سوا، دوسرے مذاہب میں انسان اور خدا کے درمیان گہرا تعلق سرے سے نہیں پایا جاتا۔ ہر دوسرے مذہب میں خدا
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues