پوائنٹ آف ریفرنس
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۵
خدا کے یہ تمام نام دراصل انسان کی نسبت سے ہیں۔ انسان اپنی نفسیات کے اعتبار سے جن خدائی حوالوں کا محتاج ہے، وہ تمام خدائی حوالے ان ناموں کے اندر موجود ہیں۔ آدمی کے اندر جب بھی اپنے عجز، اپنی عبدیت، اور اپنی حیثیتِ انسانی کے اعتبار سے کوئی جذبہ جاگتا ہے تو یہ خدائی نام اُس کو فوراً ایک رہ نما لفظ دے دیتے ہیں۔ ان رہ نما الفاظ کے ذریعے سے وہ اُسی طرح خدائے رب العالمین سے مربوط ہو جاتا ہے، جس طرح ٹیلی فون پر ایک نمبر ڈائل کر کے وہ اپنی مطلوب شخصیت سے فی الفور ربط قائم کر لیتا ہے۔
چند مثالیں
یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان پیدائشی طور پر ایک متلاشی حیوان (truth-seeking animal) ہے ۔ اس چھپی ہوئی فطرت کے زیر اثر آدمی کے اندر یہ جذبہ جاگता ہے کہ کوئی برتر ہستی ہو جو اُس کو ہدایت کی روشنی عطا فرمائے۔ اُس وقت وہ پکار اٹھتا ہے کہ اے خدائے ہادی، تو مجھ کو اپنی رحمتِ خاص سے ہدایت عطا فرما۔
موجود دنیا میں انسان بار بار ایسی صورت حال سے دوچار ہوتا ہے، جہاں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ اُس وقت اُس کی فطرت میں چھپا ہوا جذبہ چاہتا ہے کہ وہ ایک بالاتر ہستی کو پکارے۔ یہاں وہ اسماءٔ حسنیٰ میں اس بالاتر ہستی کا ایک متعلق خدائی نام پال لیتا ہے اور اُس کے حوالے سے وہ یہ کہہ اٹھتا ہے کہ اے خدا، تو ہی میرا ناصر ہے، تو ہر اعتبار سے میری مدد فرما۔ انسان مجرد طور پر نہیں سوچ سکتا۔ اپنی ذہنی ساخت کے اعتبار سے انسان کو ہمیشہ الفاظ درکار ہوتے ہیں، جن کے ذریعے وہ کسی تصور کو اپنے ذہن میں لا سکے۔ خدا کے اسماءٔ حسنیٰ کی نوعیت یہی ہے۔ یہ اسماءٔ حسنیٰ یہ بتانے کے لیے نہیں ہیں کہ مطلق طور پر خدا کے نام کیا ہیں، وہ صرف اُن اسماء کو بتاتے ہیں جو انسان کی نسبت سے ہم کو درکار ہیں۔ گویا کہ یہ اسماءٔ حسنیٰ ضرورتِ انسانی کے اعتبار سے بتائے گئے ہیں، نہ کہ خود ذاتِ خداوندی کی حقیقتِ اعلیٰ کے اعتبار سے۔
اسماءٔ حسنیٰ سے مراد صفاتِ حسنیٰ ہیں، مگر اسماءٔ حسنیٰ خود خدا کی مطلق نسبت سے خدا کا تعارف نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues