پوائنٹ آف ریفرنس
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۴
کر بیٹھتا ہے۔ ان حالات میں ہر انسان یہ سوچتا ہے کہ کیسے وہ اپنی غلطیوں کے احساس سے اپنے آپ کو بچائے۔ کس طرح ایسا ہو کہ وہ اپنے آپ کو ایک پاکیزہ روح کا درجہ دے سکے۔ یہاں اسماءِ حسنیٰ میں وہ اپنے لیے تسکین کا سامان پالیتا ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، خدا کا ایک نام ”الغفور“ ہے۔ غفور کے تصور میں انسان پوری طرح اپنے لیے ذہنی تسکین کا سامان پالیتا ہے۔ قرآن کی یہ آیت اس معاملے میں انسان کی رہ نما ہے: قُلْ یا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً، إنَّهُ هو الغفور الرّحيم۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک، اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے (الزمر: 53)۔
پوائنٹ آف ریفرنس
قرآن میں خدا کے جو اسماءِ حسنیٰ بتائے گئے ہیں، اُن میں سے ہر نام ہم کو غور و فکر کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرنس دیتا ہے۔ ان ناموں کے ذریعے ہم کو ایک متعین رہ نمائی مل جاتی ہے، جس کو لے کر ہم خدا کی ہستی کا تصور کرسکیں اور اُس کی مختلف صفات (attributes) کا تصور کرتے ہوئے خدا کی ہستی سے متعین نوعیت کا ذہنی رشتہ قائم کرسکیں۔ خدا سے اسی تعلق کا نام معرفت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جہاں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کے لیے تمام اچھے نام ہیں، اُس کے بعد فوراً یہ ارشاد ہوا ہے— پس تم انھیں اچھے ناموں سے خدا کو پکارو، اور اُن لوگوں کو چھوڑ دو، جو خدا کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں (الأعراف: 180)، یعنی انھیں ناموں کے ذریعے خدائے کامل الصفات کا تصور قائم کرو، نہ کہ اُن ناموں کے ذریعے جو دوسروں نے خود ساختہ طور پر بنا لیے ہیں۔ خدا کیا ہے۔ خدا ایک اعتبار سے ہمارے عجز (helplessness) کی تلافی ہے۔ انسان اپنی تخلیق کے لحاظ سے عاجزِ مطلق ہے، اور خدا خالق و مالک ہونے کی بنا پر قادرِ مطلق۔ اس لیے یہ فطری ہے کہ انسان ہر موقعے پر خدا کو پکارے۔ خدا کے اسماءِ حسنیٰ اس کام میں انسان کے لیے مددگار کی حیثیت رکھتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues