Al-Risala · November 2007 · page 17

اسمِ اعظم

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۷

نامہ بر کبوتر، ٹیلی گراف، ٹیلی فون اور موبائل جیسے نام ہوں۔ اس کتاب کو ایک شخص پڑھے، خواہ وہ کتاب کی زبان سے بخوبی واقف ہو، لیکن اگر نامہ بر کبوتر، ٹیلی گراف، ٹیلی فون اور موبائل جیسی چیزوں کو اُس نے دیکھا نہ ہو تو وہ ان چیزوں کی حقیقت کے بارے میں کچھ نہ جان سکے گا۔ اس قِسم کی کوئی کتاب ایک واقف کار انسان کے لیے ایک معلوماتی کتاب ہے، لیکن ایک ناواقف انسان کے لیے وہ صرف ایک معمہ بن کر رہ جائے گی۔

ایسا ہی کچھ معاملہ اسماءِ حسنیٰ کا ہے۔ خدا کے اسماءِ حسنیٰ، قرآن اور حدیث میں نام بتا دیے گیے ہیں، لیکن ان ناموں کو قرآن اور حدیث میں پڑھ لینا کافی نہیں۔ قرآن اور حدیث میں بیان ہونے کے باوجود یہ تمام نام کسی انسان کے لیے ایک نامعلوم چیز کی دریافت (discovery) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کوئی آدمی ان ناموں کی حقیقت کو صرف اُس وقت جان سکتا ہے، جب کہ اس سے پہلے وہ ذاتی دریافت کی سطح پر اُن کا علم حاصل کر چکا ہو۔ ذاتی دریافت کے بغیر یہ نام کسی آدمی کے لیے صرف رسمی نام ہوں گے، نہ کہ معرفتِ خداوندی کا خزانہ۔

اسمِ اعظم

اسماءِ حسنیٰ کے ذیل میں ایک بحث یہ ہے کہ کیا خدا کا کوئی اسمِ اعظم ہے، اور اگر ہے تو وہ کیا ہے۔ اسمِ اعظم کے متعلق مختلف روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ اس سلسلے میں مسند امام احمد کی دو روایتیں اس طرح ہیں:

1۔ عن أنس بن مالك أنّ النبى صلى الله عليه وسلم سمع رجلاً يقول:

اللهم إنى أسئلك أنّ لك الحمد، لاإله إلا أنت وحدك، لا شريك لك، المنان، بديع السموات والأرض، ذاالجلال والإكرام۔ فقال النبى صلى الله عليه وسلم: لقد سألتَ الله بإسم الله الأعظم، الذى إذا دُعى به أُجاب، وإذا سُئل به أعطى (جلد 3، صفحہ 120)۔

2۔ عن عبد الله بن بُريدة عن أبيه قال: سمع النبى صلى الله عليه وسلم

‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues

Printed page