اسمِ اعظم
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۸
رجلاً يقول اللهم إني أسئلك بأنّي أشهد أنك أنت الله، الذى لا إله إلا أنت، الأحد الصمد، الذى لم يلد و لم يُولد، ولم يكن له كفواً أحد، فقال: قد سألت الله بإسم الله الأعظم، الذى إذا سُئل به أُعطى، وإذا دُعى به أُجاب (جلد 5، صفحہ 350)۔ ترجمہ: انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ: اے اللہ، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ تیرے ہی لیے حمد ہے۔ تو ہی اللہ ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔ تو بڑا احسان کرنے والا ہے۔ زمین اور آسمان کو کسی نمونے کے بغیر پیدا کرنے والا ہے۔ تو عزت اور کبریائی والا ہے۔ یہ سُن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ کو اُس کے اسمِ اعظم کے ساتھ پکارا، جس کے ساتھ اُس کو پکارا جائے تو وہ ضرور پکار کا جواب دیتا ہے، اور جب اُس کے ساتھ سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے۔
عبداللہ بن بُریدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہیں ہوئے سُنا کہ: اے اللہ، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ تو اکیلا ہے، تو بے نیاز ہے۔ تو نے نہ کسی کو جِنا اور نہ تجھے کسی نے جنا۔ اور تیرے برابر کوئی نہیں۔ یہ سُن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ سے اُس کے اُس اسمِ اعظم کے ساتھ سوال کیا ہے، جس کے ساتھ اُس سے مانگا جائے تو وہ ضرور عطا کرتا ہے۔ اور جب اُس کے ساتھ دعا کی جائے تو وہ ضرور اُس کو قبول کرتا ہے۔
دونوں روایتوں میں اللہ کے ساتھ اُس کے اور کئی صفاتی نام آئے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسمِ اعظم سے مراد کوئی ایک نام نہیں ہوسکتا۔ اگر اسمِ اعظم کوئی ایک نام ہوتا تو صحابی کی مذکورہ دعا میں بھی صرف وہی ایک نام ہوتا، جب کہ اس دعا میں واضح طور پر خدا کے کئی نام ہیں۔ اس واضح اشارے کے باوجود اسمِ اعظم کو خدا کا کوئی ایک نام سمجھنا اور اُسی ایک نام کی تلاش میں لگے رہنا، بلاشبہ ایک غلطی ہوگی۔ اسمِ اعظم کسی لفظِ اعظم کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ مفہومِ اعظم کا نام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسمِ اعظم سے مراد خدا کا کوئی ایک نام نہیں ہے، بلکہ وہ خصوصی کیفیت کے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues