Al-Risala · November 2007 · page 20

دعا کیا ہے

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۰

خدا کو اُس کی عظمت و کبریائی کے ساتھ دریافت کرتا ہے، جب ایسا ہوتا ہے کہ خدا کے بارے میں سوچتے ہوئے اٗس کو خدا کی موجودگی کا اتنا شدید احساس ہوتا ہے کہ گویا وہ خدا کے پڑوس میں پہنچ گیا ہے۔ جب اٗس پر وہ طوفانی تجربہ گزرتا ہے، جس کو حدیث میں: ذَکَرَ اللہ خَالِیاً، فَفَاضَتْ عَیْنَاہ (البخاری، کتاب الرِّقَاق) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی آدمی نے اپنی تنہائی میں خدا کو یاد کیا اور شدتِ تاثر سے اٗس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ اٗس نے دنیائے امتحان کے بارے میں سوچا، اٗس نے موت اور روزِ حساب کا گہرا ادراک کیا، وہ اٗن ربانی کیفیات سے گزرا، جب کہ انسان کو جہنم کے شعلے بھڑکتے ہوئے نظر آتے ہیں اور دوسری طرف اٗس کو جنت کے ابدی مناظر دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جب اٗس پر یادِ خداوندی کا وہ گہرا تجربہ گزرتا ہے، جب کہ سب کچھ اٗس کی نظروں سے محو ہو جاتا ہے، خدا کے سواہر چیز اٗس کی نظر میں بے حقیقت بن جاتی ہے۔

ایسے طوفان خیز لمحات میں یہ ہوتا ہے کہ اٗس کے دل و دماغ میں ایک بھونچال آ جاتا ہے۔ اٗس کی آنکھوں سے خوفِ خدا کا سمندر اُمڈ پڑتا ہے۔ جب سوچنے کی صلاحیت بظاہر ختم ہو جاتی ہے اور صرف محسوس کرنے کی صلاحیت باقی رہتی۔ اُس وقت ایسا ہوتا ہے کہ انسان بے تابانہ طور پر اپنے رب کو پکارنے لگتا ہے۔ اُس کے اندر چھپی ہوئی ربانی فطرت الفاظ کی صورت میں بہہ پڑتی ہے۔ ایسے طوفانی لمحات میں آدمی کی زبان سے جو کچھ نکلتا ہے، اٗسی کا نام دعا ہے۔ یہی وہ دعا ہوتی ہے جو اسمِ اعظم کی زبان میں نکلتی ہے اور ایسی دعا ہمیشہ اپنی پہلی زبان میں ہوتی ہے، نہ کہ اپنی دوسری زبان میں۔ ایک واقعہ میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں دس سال سے ایک سوال کا جواب تلاش کر رہا ہوں، لیکن اب تک مجھے اٗس کا جواب نہیں ملا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کا وہ کیا سوال ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اسمِ اعظم کیا ہے۔ اِس سلسلے میں، میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں، بہت سے علما اور بزرگوں سے ملاقاتیں کیں، مگر اب تک کسی نے اِس کا تشفی بخش جواب نہیں دیا۔ اب میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ اگر ممکن ہو تو آپ مجھے اِس کا جواب دے کر میری پریشانی کو دور فرمائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues

Printed page