Al-Risala · November 2007 · page 21

دعا کیا ہے

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۱

میں نے کہا آپ کی پریشانی ایک خودساختہ پریشانی ہے۔ آپ نے یہ فرض کر لیا ہے کہ اسمِ اعظم جادو کے منتر کی طرح کوئی منتر ہے۔ اب آپ چاہتے ہیں کہ منتر کا وہ لفظ آپ کو معلوم ہو جائے، مگر ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔

میں نے کہا کہ اسمِ اعظم کسی لفظ کا نام نہیں ہے، بلکہ کیفیت کا نام ہے۔ کیفیت اعظم کے ساتھ جو دعا کی جائے، وہی اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنا ہے۔ یہ دراصل آپ کی اپنی قلبی کیفیت ہے جو کسی دعا کو اسمِ اعظم کی دعا بناتی ہے۔ کسی انسانی لفظ میں یہ طاقت نہیں کہ وہ خدا کا اسمِ اعظم بن جائے، وہ خدا کی لامحدود ہستی کا احاطہ کر لے۔

میں نے کہا کہ آپ ہی کی طرح کا ایک شخص تھا۔ اُس کو ایک خزانے کی تلاش تھی۔ اُس کو معلوم ہوا کہ یہ خزانہ فلاں پہاڑ کی چوٹی پر ایک محل کے اندر رکھا ہوا ہے۔ اِس محل کے گیٹ پر ایک تالا لگا ہوا ہے۔ یہ تالا کسی کنجی سے نہیں کھلتا، بلکہ وہ ایک منتر سے کھلتا ہے۔ اب اِس کو اِس منتر کی تلاش ہوئی ۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ ایک جگہ پہنچا۔ یہاں اُس کی ملاقات ایک سادھو سے ہوئی ۔ جو اُس منتر کو جانتا تھا۔

اس نے سادھو سے درخواست کی کہ وہ اُس کو یہ منتر بتا دے۔ سادھو نے اُس کو وہ منتر بتا دیا۔ سادھو نے کہا کہ وہ منتر’’سم سم‘‘ ہے۔ تم فلاں پہاڑ کی چوٹی پر جاؤ۔ وہاں تم کو ایک محل ملے گا۔ اِس محل کے گیٹ پر ایک تالا لٹکا ہوگا۔ تم اُس کے سامنے کھڑے ہو کر کہنا: کھل اے سم سم، کھل اے سم سم، پھر وہ تالا کھل جائے گا۔ وہ آدمی روانہ ہوا۔ لمبے سفر کے بعد وہ محل کے گیٹ پر پہنچا، مگر اُس وقت وہ منتر کو بھول چکا تھا۔ وہ گیٹ کے سامنے کھڑا ہو کر دوسرے دوسرے الفاظ بولتا رہا۔ مثلاً کھل اے ٹم ٹم، کھل اے ڈم ڈم، کھل اے بم بم، مگر دروازہ نہیں کھلا۔ اب وہ وہاں سے واپس ہو کر دوبارہ سادھو کے پاس گیا۔ سادھو نے کہا کہ تم غلط منتر بول رہے تھے، اس لیے تالا نہیں کھلا۔ دوبارہ جاؤ اور سم سم کہو۔ آدمی نے منتر کو خوب اچھی طرح یاد کر لیا اور سفر کر کے دوبارہ وہاں پہنچا۔ اُس نے محل کے گیٹ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا: کھل اے سم سم اور پھر فورا دروازہ کھل گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues

Printed page