Al-Risala · February 2007 · page 3

No Victors, Only Survivors.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۳

میں ہٹلر کے ساتھ پیش آیا۔ جرمن ڈکٹیٹر ہٹلر غالباً تاریخ کا سب سے بڑا جنگ جو اور سب سے بڑا تشدد پسند انسان تھا۔ اس نے جدید ترین مہلک ہتھیاروں کے ذریعے اپنا سیاسی مقصد حاصل کرنا چاہا، مگر وہ مکمل طور پر ناکام رہا۔ آخر میں اس نے برلن کے ایک بنکر میں خودکشی کر لی، جب کہ اس کے تمام ساتھی اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ آخروقت میں اس نے کہا تھا کہ اب جنگ کا دور ختم ہو چکا، اب اگر جنگ ہوگی تو اس میں کوئی فاتح نہ ہوگا۔ صرف یہ ہوگا کہ کچھ لوگ جنگ کی عمومی تباہی سے بچ جائیں گے :

No Victors, Only Survivors.

ہٹلر کو تو جنگ میں مکمل شکست ہوئی تھی، لیکن جنگ ایسی تباہ کُن چیز ہے کہ اس میں فتح بھی شکست ہی کی ایک دوسری قسم ہوتی ہے۔ شکست نما فتح کی کئی واضح مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ یعنی ایسی فتح جس میں فاتح نے فتح کے باوجود اپنا سب کچھ کھو دیا ہو۔ بظاہر فتح، لیکن حقیقت کے اعتبار سے صرف شکست۔

قبل مسیح یونان میں پیدا ہونے والا بادشاہ پائرس (Pyrrhus) اس معاملے کی ایک مثال ہے۔ اس کی لڑائی مقدونیہ (Macedonia) کے حکمراں سے ۲۷۵ قبل مسیح میں ہوئی۔ اس لڑائی میں بظاہر پائرس کو فتح ہوئی، لیکن اس فتح کو حاصل کرنے میں اس نے اپنی ساری طاقت کھودی تھی۔ اس کے بعد اس کی سلطنت اتنی کمزور ہوگئی کہ ۲۷۲ قبل مسیح میں خود اس کو بھی قتل کر دیا گیا۔ چناں چہ اس قسم کی شکست نما فتح کو پرک وکٹری (Pyrrhic Victory) کہا جاتا ہے۔

کسی مقصد کے حصول کے لیے ہتھیار کو بطورِ طریق کار استعمال کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی صورت موجودہ (status quo) کو توڑ کر اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس طریق کار کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پورے سماج میں نفرت، تشدد، لا قانونیت، انارکی اور ان ٹالرنس جیسی منفی چیزیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پورا سماج منفی سرگرمیوں کی آماج گاہ بن جاتا ہے۔ جس ماحول میں لوگوں کے اندر پر تشدد طریق کار کا مزاج ہو، وہاں ڈیموکریسی کبھی نشوونما نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page