No Victors, Only Survivors.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۴
پاتی۔ ایسے ماحول میں ہمیشہ ڈکٹیٹر شپ جنم لیتی ہے۔ اور جہاں ڈکٹیٹر شپ ہو، وہاں آزادیِ رائے کا خاتمہ ہوجاتا ہے، اور آزادیٔ رائے کا خاتمہ ہمیشہ ذہنی ترقی کے خاتمے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس صورت حال کی ایک مثال ستاون مسلم ملکوں میں پائی جاتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، ان ملکوں میں ہر جگہ ڈکٹیٹر شپ قائم ہے، اور اس کے نتیجے میں وہاں ذہنی ارتقا کا عمل رک گیا ہے۔ پُر تشدد طریق کار عملاً بدامنی کے ہم معنی ہے۔ کیوں کہ ایک فریق کی طرف سے تشدد کا استعمال دوسرے فریق کو تشدد کا جواز فراہم کر دیتا ہے۔ اس طرح پورا ماحول لازمی طور پر دو میں سے ایک بُرائی میں مبتلا ہو جاتا ہے— ذہنی تشدد، جس کا دوسرا نام نفرت ہے، یا عملی تشدد جو خوں ریزی کی صورت میں پورے سماج کو حیوانی سماج میں تبدیل کر دیتا ہے۔
پُر تشدد طریق کار کا سب سے زیادہ بھیانک نقصان یہ ہوتا ہے کہ ذہنی ارتقا کا عمل رک جاتا ہے۔ ذہنی ارتقا، لازمی طور پر آزادیٔ رائے چاہتا ہے۔ آزادانہ فکری عمل کے بغیر ذہنی ارتقا نہیں ہوتا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جن ملکوں میں ڈکٹیٹر شپ کا نظام قائم ہے اور نتیجۂ آزادیٔ رائے پر پابندی لگی ہوئی ہے، وہاں کوئی آدمی اتنا بڑا علمی کام نہیں کر پاتا کہ اس کو نوبل پرائز جیسا عالمی انعام دیا جائے۔ ایسے ملکوں میں پیدا ہونے والے کسی شخص کو اگر کوئی نوبل پرائز ملا ہے تو ایسا صرف اُس وقت ممکن ہوا ہے جب کہ وہ اپنے ملک کو چھوڑ کر مغرب کے آزاد ملکوں میں جا کر آباد ہو گیا ہو۔ نان وائلنٹ ایکٹوزم (non-violent activism)
موجودہ زمانے میں نان وائلنٹ ایکٹوزم ایک مستقل شعبۂ مطالعہ بن گیا ہے۔ اس شعبۂ مطالعہ کو آج کل پیسفزم کہا جاتا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں پیسفزم پردس صفحے کا مقالہ شامل ہے۔ اس مقالے میں بہت سے لوگوں کو پیسفسٹ(pacifist) کی حیثیت سے بتایا گیا ہے۔ اس موضوع پر ایک انسائیکلو پیڈیا بھی چھپی ہے۔ اس کا نام یہ ہے :
An Encyclopaedia of Pacifism (1937)
نان وائلنٹ کی کامیاب عملی مثال کے لیے اس میں صرف مہاتما گاندھی کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues