Al-Risala · November 2007 · page 34

اسمِ اعظم ایک زندہ تجربہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۴

تھی۔ اور جب کوئی حاکم اپنے ماتحت کو تنقید کرتے ہوئے سنتا ہے تو اس پر کبر کا سخت دورہ پڑتا ہے۔ بڑے بڑے شریف اور دین دار لوگ بھی اُس وقت قابو سے باہر ہو جاتے ہیں، مگر سلطان نے حد درجہ ضبط سے کام لیا۔ اگرچہ سلطان پر اس تنقید کا بہت زیادہ اثر تھا، مگر وہ مسجد میں کچھ نہ بولا اور نماز کے بعد خاموشی سے اٹھ کر باہر آگیا۔

گھر پہنچ کر سلطان نے اپنے لڑکے الحكم سے کہا کہ آج قاضی منذر نے مجھ کو بہت سخت تکلیف دی۔ اب میں نے طے کر لیا ہے کہ میں اُن کے پیچھے کبھی جمعہ کی نماز نہیں پڑھوں گا۔ الحکم نے کہا: قاضی منذر کا امام ہونا یا نہ ہونا آپ کے اختیار میں ہے، آپ اُن کو معزول کر دیجیے اور اُن کی جگہ دوسرا کوئی امام مقرر کر دیجیے، جو ایسی گستاخی نہ کرے۔ یہ سن کر سلطان غصے میں آ گیا۔ اُس نے اپنے لڑکے کو ڈانٹ کر کہا: تمھارا بُرا ہو، ایک شخص جو ہدایت سے دور ہے اور راستے سے بھٹکا ہوا ہے، کیا اُس کی خوشی کی خاطر قاضی منذر جیسے خوبیوں والے آدمی کو معزول کر دیا جائے گا۔ یہ بات کبھی نہیں ہوسکتی (هذا ما لا يكون)۔

مجھے اُن کی باتوں سے چوٹ لگی، اس لیے میں نے اُن کے پیچھے جمعہ نہ پڑھنے کی قسم کھائی۔ میری خواہش ہے کہ اس قسم کے کفارے کی کوئی صورت نکل آئے۔ تاہم قاضی منذر ہماری زندگی میں اور اپنی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں گے (بل يصلّى بالناس حياتنا وحياته إن شاء الله تعالى)، چناں چہ قاضی منذر بدستور جمعہ کی نماز پڑھاتے رہے۔ عبد الرحمن الناصر کے انتقال کے بعد اُس کے لڑکے نے بھی اُن کے مقام کو اُسی طرح باقی رکھا۔

اوپر جس واقعے کا ذکر ہوا، اُس میں بہت بڑا سبق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی انسان کی وہ مطلوب صفات کیا ہیں، جو اگر کسی کے اندر ہوں تو اُس کو یہ خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے کہ وہ خدا سے ایسی دعا کر سکے جس کو اسمِ اعظم کے ساتھ کی جانے والی دعا کہا جاتا ہے۔ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا میں اگر پچاس فی صدا اسمِ اعظم کا حصہ ہے تو پچاس فی صد خود دعا کرنے والے کی ربانی استعداد کا حصہ ہے۔ یہ ربانی استعداد قاضی منذر اور سلطان عبد الرحمن دونوں کے اندر

‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues

Printed page