Al-Risala · November 2007 · page 33

اسمِ اعظم ایک زندہ تجربہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۳

پچیس سال کی محنت سے قرطبہ کے پاس ایک شان دار محل بنایا۔ یہ محل چار میل لمبی اور تین میل چوڑی زمین میں واقع تھا۔ اس محل کا نام اس نے الزہرا رکھا۔ مگر غیر معمولی طور پر بڑا ہونے کی وجہ سے اس کو قصر الزہرا کے بجائے مدینۃ الزہرا کہا جانے لگا۔

سلطان عبد الرحمن الناصر کو عمارتوں کا بہت شوق تھا۔ اس نے الزہرا کے نام سے یہ شاہی بستی بسائی اور اس میں شان دار محل تعمیر کیے ۔ ان تعمیرات کے آخری دنوں میں سلطان اتنا مشغول رہا کہ مسلسل تین جمعہ میں وہ مسجد نہ پہنچ سکا۔ چوتھے جمعہ کو جب سلطان جامع مسجد پہنچا تو اس کی موجودگی میں قاضی منذر (وفات: 966ء) نے جو خطبہ دیا، اُس میں نام لیے بغیر سلطان پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ قاضی منذر نے ایسی آیتیں پڑھیں جن میں دنیا میں عمارتیں کھڑی کرنے اور آخرت سے غافل ہو جانے پر وعیدیں تھیں۔ مثلاً کیا تم ہر بلندی پر عبث یادگاریں تعمیر کرتے ہو اور شان دار محل بناتے ہو گویا کہ تم کو ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے۔ اور جب تم کسی پر حملہ کرتے ہو تو جبارانہ حملہ کرتے ہو۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو (الشعراء : 131-128)، تمھارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو، یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات گگر پر اٹھائی اور وہ عمارت اُس کو لے کر جہنم کی آگ میں جاگری۔ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔ یہ عمارت جو انھوں نے بنائی ہے، ہمیشہ اُن کے دلوں میں بے یقینی کی جڑ بنی رہے گی، یہاں تک کہ اُن کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ اور اللہ علیم اور حکیم ہے (التوبہ : 110-109)۔

اسی طرح قاضی منذر نے اس مضمون کی بہت سی حدیثیں سنائیں اور ان کی تشریح کی۔ اپنے خطبے میں اگر چہ انھوں نے سلطان کا نام نہیں لیا، مگر مسجد کا ہر نمازی سمجھ رہا تھا کہ ان سخت تنقیدوں کا مخاطب کون ہے اور وہ کس کے اوپر پڑ رہی ہیں۔

تنقید، یوں بھی آدمی کے اوپر بہت سخت ہوتی ہے اور جب مجمع عام میں کسی پر تنقید کی جائے تو وہ اور بھی زیادہ ناگواری کا باعث ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ تنقید ایک ماتحت کی زبان سے اپنے حاکم کے اوپر

‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues

Printed page