بارش شروع ہو گئی
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۶
وہ واقعات ہیں جو انسان کے اندر ربانی کیفیات کی پرورش کرتے ہیں، اور جس سینے کے اندر ربانی کیفیات کا یہ چشمہ جاری ہو جائے، وہی وہ انسان ہے جس کو اسماء حسنیٰ کی معرفت ہوتی ہے اور اُسی کو یہ توفیق ملتی ہے کہ وہ اسمِ اعظم کے ساتھ خدا وندِ عالم کو پکارے اور اُس کی پکار ضرور سنی جائے۔ ذاتی تجربات خدا کے فضل سے مجھ کو اس قسم کے تجربے بار بار پیش آئے ہیں۔ 30 دسمبر 2006 کو میں اپنی ٹیم (سی پی ایس) کے کچھ افراد کے ساتھ نئی دہلی کے لودھی گارڈن میں گیا۔ یہ گویا کہ ہماری اسپرچول آؤٹنگ (spiritual outing) تھی۔ اس موقع پر میرے دل سے ایک دعا نکلی، جو میری فہم کے مطابق ،اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کی ایک مثال ہے۔
جب ہم لوگ لودھی گارڈن کے اندر پہنچ گئے تو میں نے اپنی ٹیم کے افراد سے پوچھا کہ آپ لوگ جب یہاں پہنچے تو آپ کا پہلا احساس کیا تھا۔ لوگوں نے مختلف انداز سے اپنے اپنے تجربے بتائے۔ پھر میں نے کہا کہ جب میں اس خوب صورت گارڈن کے اندر داخل ہوا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ میں جنت کو دور سے دیکھ رہا ہوں۔ یہ خوب صورت گارڈن میرے لیے جنت کا ایک بعید تعارف بن گیا۔
میں نے اشک بار آنسوؤں کے ساتھ کہا کہ خدایا، تو نے مجھے ناقص جنت میں پہنچا دیا، اب تو اپنی رحمت سے مجھے کامل جنت میں بھی داخل کر دے۔ میں نے کہا کہ خدایا، میں اور میرے ساتھی، پوری انسانی تاریخ میں، جنت کے لیے سب سے زیادہ غیر مستحق لوگ (least deseving candidates) ہیں۔ اگر تو ہمارے کامل عدم استحقاق کے باوجود ہم کو اپنی جنت میں داخل کر دے تو یہ واقعہ تیری شانِ رحمت کے ایک نئے اظہار کے ہم معنی ہوگا۔ سارے زمین اور آسمان اور تمام فرشتے یہ دیکھ کر حیران ہو جائیں گے کہ خدا کی رحمتوں کا سمندر اتنا وسیع تھا کہ ہمارے جیسے آخری حد تک غیر مستحق افراد بھی تیری رحمتِ بے پایاں کے فیض سے محروم نہ رہے، تیری رحمتِ بے پایاں کتنی وسیع تھی کہ وہ تاریخ کے ان نااہل ترین افراد تک کا احاطہ کر رہی تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues