لقد أوتيت سؤلك يا موسى
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۷
لقد أوتيت سؤلك يا موسى
غالباً 1962 کی بات ہے۔ مجھے اعظم گڑھ کے ایک قصبہ (آن جان شہید) کے ایک اجتماع میں شرکت کا موقع ملا۔ اس اجتماع میں مسلم حضرات شریک تھے۔ مجھے پیشگی طور پر معلوم نہ تھا کہ مجھ کو اس اجتماع میں خطاب کرنا ہے۔ کچھ لوگوں نے اچانک مجھے اسٹیج پر لے جا کر کھڑا کر دیا۔ میرے لیے یہ ایک مجبورانہ خطاب کا معاملہ تھا۔ یہ غالباً پہلا موقع تھا جب کہ مجھے خطاب کے معاملے میں کامل عجز کا تجربہ ہوا۔ اس سے پہلے میں نے بار بار اجتماعات میں خطاب کیا تھا، مگر یہ تمام خطابات تحریری مقالے کی صورت میں تھے۔ مجھے پیشگی طور پر پروگرام کا علم ہوتا تھا اور میں مقالہ لکھ کر اس کو وہاں پڑھ دیتا تھا۔ مگر اس بار ایسی صورت پیش آئی کہ مجھے لازمی طور پر بولنا بھی تھا اور کسی پیشگی تیاری کے بغیر زبانی طور پر خطاب کرنا تھا۔ اُس وقت اچانک میرے اندر وہ ذہنی بھونچال کی کیفیت پیدا ہوئی جس کو نفسیاتی اصطلاح میں برین اسٹارمنگ (brain storming) کہا جاتا ہے۔ اُس وقت میرے لیے کسی آزادانہ انتخاب کا موقع نہ تھا۔
میں نے خدا کو یاد کیا اور دیوانگی کے عالم میں اچانک بولنا شروع کر دیا۔ حاضرین کے سامنے مائک پر بولتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن میں پیغمبروں کے قصے بتائے گئے ہیں، لیکن یہ تاریخی کہانی کے طور پر نہیں، بلکہ وہ ہمارے حال کے لیے ایک زندہ سبق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ خدا نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ مصر کے جابر بادشاہ کے دربار میں جائیں اور وہاں اُس کے سامنے توحید کی دعوت پیش کریں۔
حضرت موسیٰ نے کہا کہ: يضيق صدری ولا ينطلق لسانی۔ خدایا، میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے اور میری زبان چلتی نہیں (الشعراء: 13)۔ پھر انھوں نے قادر مطلق خدا کی توفیق سے یہ دعا کی کہ: رب اشرح لی صدری، ويسرلی أمری، واحلل عقدة من لسانی، يفقهوا قولی (اے میرے رب، میرے لیے میرا سینہ کھول دے اور میرے لیے میرے معاملے کو آسان کر دے۔ اور تو میرے زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ لوگ میری بات کو سمجھیں (طٰه: 28-25)
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues