Al-Risala · November 2007 · page 45

عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۴۵

سرسید کے بعض خیالات پر ان سے بہت غصہ تھے۔ انھوں نے سرسید سے ملنے سے انکار کر دیا، مگر سرسید مایوس نہیں ہوئے۔ ان کو معلوم تھا کہ شام کو نواب صاحب اپنی گھوڑا گاڑی پر سیر کے لیے نکلتے ہیں۔ اُس وقت ان کی کوٹھی کے سامنے بھکاری لوگ بیٹھ جاتے ہیں۔ نواب صاحب ہر ایک کو کچھ نہ کچھ دیتے ہوئے آگے چلے جاتے ہیں۔

سرسید شام کے وقت وہاں پہنچے اور بھکاریوں کی صف میں اس طرح بیٹھ گئے کہ اپنی ٹوپی کو کاسۂ گدائی کی طرح اپنے سامنے رکھ لیا۔ نواب صاحب حسب معمول اپنی گھوڑا گاڑی پر نکلے۔ انھوں نے دیکھا کہ سرسید بھکاریوں کی صف میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر نواب صاحب کو تعجب ہوا۔ انھوں نے کہا کہ سید تم یہاں کہاں۔ سرسید نے جواب دیا کہ — نواب صاحب، اگر آپ مجھے چندہ نہیں دے سکتے تو بھیک تو دے سکتے ہیں۔ اس بات کا نواب صاحب پر بہت اثر پڑا۔ وہ اپنی گاڑی سے اتر پڑے اور سرسید کو لے کر اپنی کوٹھی کے اندر گئے۔ ان کو عزت کے ساتھ بٹھایا اور ان کو کالج کے لیے کافی چندہ دیا۔

میں نے اس واقعے کو لے کر کہا کہ خدایا، اگر میں عمل کی بنیاد پر کچھ پانے کا مستحق نہیں تو بھیک کے طور پر تو مجھے اپنا انعام عطا کردے، کیوں کہ تو نے قرآن میں جس طرح عامل کو عطیہ کا مستحق قرار دیا ہے، اسی طرح تو نے سائل کو بھی عطیہ کا مستحق بتایا ہے۔ اگر تو انسان سے یہ چاہتا ہے کہ وہ عامل کو دینے کے ساتھ سائل کو بھی دے تو یقیناً میں امید کر سکتا ہوں کہ تو خود بھی میرے ساتھ اسی طرح کا معاملہ فرمائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کی ایک مثال ہے، جس کی توفیق مجھے خدا کی خصوصی رحمت کے تحت حاصل ہوئی۔ جہاں تک میرا تجربہ ہے، اسمِ اعظم کے ساتھ دعا نہ تو کسی یاد کیے ہوئے الفاظ کو دہرانے کا نام ہے اور نہ خود انسان پیشگی طور پر سوچ کر اس قسم کی دعا کر سکتا ہے۔ اس قسم کی دعا براہِ راست خدا کی توفیق سے ہوتی ہے اور وہ اچانک ہی انسان کے سینے سے اُبل پڑتی ہے، جیسے کوئی جوالہ مُکھی پہاڑ اچانک پھٹ پڑے، حالاں کہ موسمیات کے ماہرین نے اس کی پیشین گوئی نہ کی ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues

Printed page