Al-Risala · November 2007 · page 44

عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۴۴

بعد کو انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا کیا معاملہ تھا۔ اُن کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ مجھے وہ حدیث یاد آئی، جس میں عید الفطر کے دن نماز کے لیے نکلنے والے اہل ایمان کا ذکر ہے۔ وہ حدیث اس طرح ہے: ....... فاذا کان یوم عیدهم، یعنی یومِ فطرهم، باهی بهم ملائکته، فقال: ملائکتی، ماجزاءُ أجیرٍ وفّی عمله۔ قالوا: ربّنا، جزاؤه أن یُوفّی أجره۔ قال: ملائکتی، عبیدی وإمائی قضوا فریضتی علیهم، ثمّ خرجوا یَعُجّون إلى الدّعاء، وعزّتی وجلالی وکرمی وعُلُوّی وارتفاع مکانی لأجیبنّهم۔ فیقول: ارجعوا فقد غفرتُ لكم، وبدّلتُ سیّئاتکم حسنات۔ قال: فیرجعون مغفوراً لهم۔ (رواه البیهقی فی شعب الإیمان؛ مشکاة المصابیح، رقم الحدیث: 2096)۔

ترجمہ: جب اُن کی عید کا دن آتا ہے، یعنی عید فطر کا دن، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اُن پر فخر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: اے میرے فرشتو، اُس عامل کا اجر کیا ہے جس نے اپنے عمل کو پورا کر دیا۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، اُس کی جزا یہ ہے کہ اُس کو اُس کے عمل کا پورا بدلہ دے دیا جائے۔ خدا کہتا ہے کہ اے میرے فرشتو، میرے بندوں اور میری بندیوں نے میرے اُس فرض کو ادا کر دیا جو اُن پر تھا، پھر وہ نکلے ہیں دعا کے ساتھ مجھ کو پکارتے ہوئے۔ میری عزت اور میرے جلال کی قسم، میرے کرم، میرے عُلُو شان اور میرے بلند مقام کی قسم، میں ضرور اُن کی پکار کو سنوں گا۔ پھر خدا کہتا ہے کہ: تم لوگ واپس جاؤ، میں نے تم کو بخش دیا اور میں نے تمھارے سیّات کو حسنات میں بدل دیا ۔ پس وہ لوگ اس طرح لوٹتے ہیں کہ اُن کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے۔

آج کے دن کی نسبت سے یہ حدیث مجھے یاد آئی۔ یہ سوچ کر میرا دل بے قرار ہو گیا کہ آج کے دن خدا لوگوں کو بڑے بڑے انعام دے رہا ہے، لیکن یہ انعام عمل کرنے والوں کے لیے ہے اور میرے پاس کوئی عمل نہیں۔

پھر مجھ کو سر سید احمد خاں (وفات: 1898) کا ایک واقعہ یاد آیا۔ وہ اپنے محمدن کالج (موجودہ علی گڑھ یونیورسٹی) کے چندے کے لیے ایک مسلم نواب کے یہاں گئے۔ نواب صاحب

‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues

Printed page