Al-Risala · December 2007 · page 24

گھر: بہتر انسان بنانے کا کارخانہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۴

گھر: بہتر انسان بنانے کا کارخانہ

ماں کی حیثیت سے عورت کا رول اگلی نسل کی تیاری ہے۔ انسان کی نسل ایک رواں دریا کی مانند ہے جس میں ہر وقت پرانا پانی بہہ کر چلا جاتا ہے اور نیا پانی اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ یہی معاملہ انسانی قافلے کا ہے۔ یہاں بھی مسلسل ایسا ہوتا ہے کہ پچھلی نسل جاتی رہتی ہے اور نئی نسل اس کی جگہ لیتی رہتی ہے۔ ماں کا کام اسی نئی نسل کی تیاری ہے۔ ماں کے ذمے داری یہ ہے کہ وہ ہر باراگلی نسل کے لیے بہتر انسان بنا کر بھیجے۔

بہتر انسان کون ہے۔ بہتر انسان وہ ہے جس کے اندر زندگی کا حوصلہ ہو۔ جو منفی سوچ سے بلند ہو اور مثبت سوچ کا حامل ہو۔ جو اپنے ذہن کے اعتبار سے اس قابل ہو کہ وہ چیز تعمیری بنیادوں پر زندگی کی منصوبہ بندی کر سکے۔ جو اپنے سماج کے لیے کوئی نیا پرابلم پیدا نہ کرے ۔ جو اپنے سماج کا دینے والا ممبر (giver member) ہو، نہ کہ صرف لینے والا ممبر (taker member)۔

اس معاملے میں ماں کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کو ہم چند مثالوں کے ذریعے واضح کریں گے۔ ان مثالوں کا خلاصہ یہ ہے کہ ماں کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے اندر وہ چیز پیدا کرے جس کو پختگی (maturity) کہا جاتا ہے، وہ ناپختگی (immaturity) کا ذہن لے کر اپنی اولاد کو سماج میں نہ بھیجے۔ امریکا کی ایک خاتون نینسی آلوا ایڈیسن کا ایک بیٹا تھا۔ اُس کا نام ٹامس الوا ایڈیسن (وفات: 1931) تھا۔ وہ پیدائشی طور پر کم سنتا تھا۔ اس کے اسکول ٹیچر نے دیکھا کہ وہ کلاس میں ٹیچر کی باتوں کو سن نہیں پاتا اور اسکول کے کام کو ٹھیک سے نہیں کرتا۔ اسکول ٹیچر اس پر غصہ ہو گیا۔ اس نے ایڈیسن کو معذور بچہ (retarded boy) قرار دے اس کو اسکول سے خارج کر دیا۔

لیکن ایڈیسن کی ماں نے یہاں ایک تعمیری رول ادا کیا۔ اس نے ایڈیسن کے اندر یہ ذہن پیدا کیا کہ تم ایک معذور بچے نہیں ہو بلکہ یہ معذوری تمھارے لیے ایک چیلنج ہے۔ تم اپنی فطری صلاحیتوں کو استعمال کرو اور اس چیلنج کا مقابلہ کر کے تم ایک کامیاب انسان بن سکتے ہو۔ ماں نے ایڈیسن کی تعلیم کو اپنا

‹ Previous page Next page › Contents of December 2007 All issues

Printed page