Al-Risala · December 2007 · page 25

گھر: بہتر انسان بنانے کا کارخانہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۵

مشن بنا لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایڈیسن کا نام تاریخ میں ایک بڑے سائنس داں کی حیثیت سے درج کیا گیا۔ اسی طرح عام ذہن یہ ہے کہ جو آدمی دولت مند گھر میں پیدا ہو، اُس کو خوش قسمت سمجھا جاتا ہے۔ اور جو آدمی غریب گھر میں پیدا ہو، اس کو بدقست انسان کہا جاتا ہے۔ یہاں ماں کا رول یہ ہے کہ اگر اس کا بچہ غریب گھر میں پیدا ہوا ہے تو وہ اس کو بتائے کہ غریب ہونا کوئی محرومی کی بات نہیں۔ ایسی ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کو زندگی کا یہ فلسفہ بتائے کہ دولت مند بچے کے پاس اگر دولت ہوتی ہے تو غریب بچے کے پاس بڑھا ہوا محرک (incentive) موجود ہوتا ہے۔ یہ محرک اُس کی زندگی کی طاقت بن کر اس کا ساتھ دیتا ہے:

If a rich person is born with a silver spoon in his mouth, the poor person is born with an incentive spoon in his mouth. ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کو بتائے کہ ہر امیر بچے کے باپ اور دادا غریب ہی تھے، پھر وہ محنت کر کے امیر بنے۔ اسی طرح تم بھی محنت کر کے سب کچھ حاصل کر سکتے ہو۔ اسی طرح ایک اور فکری گمراہی ہے۔ ماں کو چاہیے کہ اس گمراہی سے وہ اپنے بچے کو باہر نکالے۔ وہ یہ کہ عام طور پر انسانی طبقات کو محروم اور غیر محروم (Haves and have nots) میں تقسیم کیا جاتا ہے، مگر یہ ایک غلط ڈائکاٹمی (wrong dichotomy) ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ بچپن میں ایک شخص محروم طبقے کا فرد ہوتا ہے، لیکن بعد میں وہ ایک غیر محروم طبقے کا فرد بن جاتا ہے۔ مثلاً سی وی رمن، جی ڈی برلا، آبرائے، دھیرو بھائی امبانی، ڈاکٹر عبدالکلام، وغیرہ۔ اس قسم کے ہزاروں لوگ ہیں جو اپنے بچپن میں بظاہر محروم طبقے سے تعلق رکھتے تھے، لیکن بعد کو وہ غیر محروم طبقے کے اعلیٰ فرد بن گئے ۔ اس لیے اس دنیا میں صحیح ڈائکاٹمی محروم اور غیر محروم کی نہیں ہے، بلکہ امکانی غیر محروم اور واقعی غیر محروم (pontential haves and actual haves) کی ہے۔ کسی انسان کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت کی چیز حوصلہ اور مثبت شعور ہے۔ ہر پچھلی نسل کا فرض ہے کہ وہ اگلی نسل کو با حوصلہ اور باشعور بنا کر زندگی کے میدان میں داخل کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2007 All issues

Printed page