صورت یا سیرت
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۷
صورت یا سیرت
اکثر نو جوان یہ خواب دیکھتے رہتے ہیں کہ ان کو خوب صورت بیوی مل جائے۔ مگر یہ صرف ایک نادانی کی خواہش ہے۔ نام نہاد خوب صورت عورت اکثر پُر مسائل بیوی (problem wife) ثابت ہوتی ہے۔ ایسی عورت کی دل کشی صرف چند دن کی ہوتی ہے اور اس کے بعد سارا جنون ختم ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نکاح کے معاملے میں آدمی کو اصل اہمیت سیرت کو دینا چاہیے۔ جو عورت سیرت میں اچھی ہو، وہی سب سے اچھی بیوی ہے۔
فرینک فرٹ یونی ورسٹی کے ماہر نفسیات ڈاکٹر جان (Dr. John Ockert) نے ایک جائزے میں بتایا کہ زیادہ خوب صورت لڑکیاں عام طور پر زندگی میں ناکام رہتی ہیں : Gorgeous women feel beuty is the only asset, and they cannot bear the ageing. Marilyn Monroe, one of the prettiest woman to emerge from Hollywood, is stated to have wept bitterly when she saw first traces of wrinkles in the mirror. دل کش عورتیں سمجھتی ہیں کہ خوب صورتی اُن کا واحدسرمایہ ہے اور بڑھاپے کو وہ برداشت نہیں کر سکتیں ۔ میری لین مانرو، جو ہالی وڈ کی ایک انتہائی خوب صورت عورت تھی، کہا جاتا ہے کہ وہ اُس وقت بُری طرح رونے لگی، جب کہ اُس نے آئینے میں پہلی بار اپنے چہرے پر جُھریوں کے نشانات دیکھے۔ جس آدمی کو پرکشش عورت نہ ملے، وہ زیادہ خوش قسمت ہے۔ کیوں کہ غیر پرکشش عورت عملی زندگی میں زیادہ بہتر رفیق ثابت ہوتی ہے۔ نکاح کا مقصد ایک نسوانی کھلونا حاصل کرنا نہیں ہے، بلکہ نکاح کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کو ایک کار آمد رفیقہ حیات مل جائے۔ اور بہتر رفیقہ حیات وہی ہے جو سیرت کے اعتبار سے بہتر ہو، نہ کہ صرف صورت کے اعتبار سے بہتر۔ یہ تجربہ اتنا عام ہے کہ ہر آدمی اپنے قریب کے لوگوں میں اس کی مثالیں دیکھ سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے اندر چیزوں کو حقیقت پسندانہ انداز سے دیکھنے کی صلاحیت موجود ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2007 All issues