Al-Risala · December 2007 · page 28

لُو میرج نا کام کیوں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۸

لُو میرج نا کام کیوں

جدید دور میں جب لو میرج (love marriage) کا طریقہ رائج ہوا تو اکثر عورت اور مرد نے یہ یقین کر لیا کہ اب انھوں نے نکاح کے معاملے میں آخری فارمولا دریافت کر لیا ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ہر عورت اور مرد لو میرج کے ذریعے اپنی پسند کی شادی کرے اور پھر اپنی پسند کے مطابق، اپنے لیے بہترین زندگی کی تعمیر کرے۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ لو میرج کا طریقہ پوری طرح ناکام ثابت ہوا۔ آج کل ساری دنیا میں یہ حال ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں لو میرج کے ذریعے اپنی پسند کی شادیاں کرتے ہیں، لیکن سروے کے مطابق، پچاس فی صد سے زیادہ شادیاں نا کام ہوتی ہیں۔ لو میرج نے لوگوں کو خوش گوار ازدواجی زندگی کا تحفہ نہیں دیا۔

لو میرج کی ناکامی کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لو میرج صرف ایک غیر فطری میرج کا خوب صورت نام ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ ایک نوجوان عورت اور ایک نوجوان مرد ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور ظاہری خوش نمائی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو پسند کر لیتے ہیں۔ مگر پھر جب دونوں کے درمیان عملی تعلق قائم ہوتا ہے تو اُن پر کھلتا ہے کہ انھوں نے جس چمک دار چیز کو سونا سمجھا تھا، وہ سونا ہی نہ تھا۔ اصل یہ ہے کہ نکاح سے پہلے جو لو افتر (love affair) ہوتا ہے، وہ صرف نظر فریبی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ نکاح کے بعد جب دونوں کے درمیان عملی تعلق ہوتا ہے تو نظر فریبی کا سراب ختم ہو جاتا ہے اور حقیقی صورت حال سامنے آ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قبل از نکاح جو چیز غیر معمولی نظر آئی تھی، وہ بعد از نکاح صرف ایک معمولی چیز بن کر رہ جاتی ہے۔ اب مایوسی کا دور شروع ہوتا ہے جو آخر کار طلاق یا کم از کم دوری تک پہنچ جاتا ہے۔

درست طریقہ صرف یہ ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں نکاح کے معاملے کو اپنے والدین پر چھوڑ دیں۔ تاہم والدین کو اس معاملے میں ایسا کرنا چاہیے کہ وہ اپنی اولاد سے اس بارے میں رائے لیں، اس کے بعد ہی وہ کوئی آخری فیصلہ کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2007 All issues

Printed page