Al-Risala · February 2007 · page 24

ہدیہ: صرف 20/- روپئے

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۲۴

میں لوہا پختہ کرداری کی صفت کو بتانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً۔ عربی میں رجل حدید، فارسی میں مردِ آہن ، ہندی میں لوہا پُرش ، انگریزی میں آئرن مین (iron man) اور آئرن ہینڈ (iron hand) وغیرہ۔

لوہے کی دو خاص صفتیں ہیں۔ ایک ہے اس کی مضبوطی، یہ مضبوطی اتنی زیادہ ہے کہ پیشگی طور پر اس کا یقینی انداز کیا جا سکتا ہے۔ اور اس کی دوسری صفت ہے نفع بخشی۔ اپنی مضبوطی کی بنا پر وہ بہت سے پہلوؤں سے انسان کے لیے نفع بخش بن گیا ہے۔ اگر لوہا نہ ہو تو تمدن کی اکثر سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ جائیں۔ تمدن کی گاڑی آگے نہ بڑھ سکے۔

مذکورہ قرآنی آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ نظریاتی اعتبار سے خدا کی کتاب کو اپنے لیے رہنما کتاب بنائے ۔ وہ پورے یقین کے ساتھ اُس کا مومن بن جائے ۔ وہ اپنے صحیح اور غلط کو ناپنے کے لیے خدا کی کتاب کو اپنی میزان (ترازو) بنالے۔

دوسری بات جو آیت میں کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ آدمی اپنی عملی زندگی میں فطرت کے اُس نمونے کی پیروی کرے جو لوہے کی صورت میں اِس دنیا میں رکھا گیا ہے۔ یعنی قول وعمل میں پختگی۔ قول وعمل میں اِس حد تک پختگی کہ آدمی قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا حامل بن جائے۔ دوسرے یہ کہ وہ لوگوں کے لیے اُسی طرح نفع بخش (useful) بن جائے ، جس طرح لوہا ہزاروں سال سے نفع بخش بنا ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page