Al-Risala · February 2007 · page 23

ہدیہ: صرف 20/- روپئے

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۲۳

پختہ کرداری اور نفع بخشی قرآن کی سورہ نمبر ۵۷ میں ارشاد ہوا ہے:

’’بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو بینات کے ساتھ بھیجا۔ اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تا کہ لوگ قسط پر قائم ہوں ۔ اور ہم نے لوہا اتارا جس میں بڑی قوت ہے اور لوگوں کے لیے اس میں دوسرے منافع بھی ہیں، اور تا کہ اللہ یہ جانے کہ کون اس کے رسولوں کی مدد غیب میں کرتا ہے۔ بے شک اللہ قوی اور عزیز ہے‘‘ (الحديد ۲۵)

قرآن کی اس آیت میں بنیادی طور پر دو باتیں کہی گئی ہیں۔ ایک بات کتاب خداوندی کے حوالے سے، اور دوسری بات لوہا (حديد) کے حوالے سے۔ کتاب خداوندی کے حوالے سے جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا نے اپنے رسولوں کے ذریعے بہ شکل وحی وہ رہنما اصول بھیجے جن کے ذریعے انسان یہ جان سکے کہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، خدا کی زمین پر زندگی گزارنے کا طریقہ کیا ہے، اور وہ کون سا طریقہ ہے جس کا اتباع کرنے سے آدمی اُس سچے راستے پر چلے جو خدا کے نزدیک قسط اور عدل کا راستہ ہے، یعنی گفتگو اور معاملات اور لین دین میں انصاف کی روش اختیار کرنا۔ آیت کے دوسرے حصے میں لوہے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ تخلیق کے عالمی نقشے کے ایک پہلو کی طرف اشارہ ہے۔ اِسی دنیا میں خدا نے اخلاقی روش کے مادی ماڈل قائم کیے ہیں۔ مثلاً ستاروں کا ایک مدار میں گھومنا اس بات کا ایک نمونہ ہے کہ لوگ اِس طرح اپنے اپنے دائرے میں رہ کر ٹکراؤ کے بغیر اپنا سفر حیات طے کریں۔ اسی طرح گلاب کا پودا اس بات کا ایک مادی نمونہ ہے کہ پھول اور کانٹا جس طرح ایک ساتھ معتدل انداز میں رہتے ہیں، اسی طرح انسان کو چاہیے کہ وہ سب کے ساتھ معتدل انداز میں رہے، وغیرہ۔

اسی قسم کا ایک مادی نمونہ لوہا ہے۔ لوہا اپنی خصوصیات کے اعتبار سے طاقت (strenth) کا نمونہ ہے۔ لوہا کردار کی مضبوطی کو بتاتا ہے۔ لوہا صلابت اور استقامت کا نشان ہے۔ اسی لیے ہر زبان

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page