11 ستمبر، اور امت مسلمہ
الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۲۶
سے کہا کہ میں بھی اسی مسلم دنیا میں رہتا ہوں، میں نے تو کسی مسلمان کو امریکا کے اس واقعے پر ’’روتے اور چلاتے ہوئے‘‘ نہیں دیکھا۔ آخر یہ آپ کس مسلم دنیا کی بات کر رہے ہیں۔ انھوں نے مسکرا کر جواب دیا کہ امریکہ بہت چودھراہٹ کر رہا تھا، اس کو سبق دینا تو ضروری تھا‘‘۔ (ماہ نامہ الرسالہ، ستمبر، ۲۰۰۲، صفحہ ۹)
۱۱ ستمبر کے واقعے پر مسلمانوں کا پہلا ردعمل یہی تھا۔ اس خبر کو سن کر عام طور پر وہ خوش تھے۔ ان کے مفروضے کے مطابق، امریکہ، اسلام کا دشمن نمبر ایک (عدوّ الاسلام رقم واحد) تھا، اس لیے ان کے لیے یہ ایک پُر مسرت خبر تھی کہ کچھ لوگوں نے خود امریکہ کے ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کر کے ان کو امریکہ کے نشان فخر (ورلڈ ٹریڈ ٹاور) سے ٹکرا دیا۔ اس طرح انھوں نے ظالم امریکہ کو ’’سبق سکھانے‘‘ کی کوشش کی۔
اس کے بعد مغربی ذرائع سے یہ خبریں آنے لگیں کہ نیو یارک کے ٹاور کو جن لوگوں نے توڑا، وہ سب کے سب مسلمان تھے۔ اب مسلم دانش وروں نے عجیب و غریب طور پر یہ کہنا شروع کیا کہ خود امریکی انتظامیہ نے مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے یہ واقعہ انجام دیا ہے۔ کچھ اور لوگوں نے انکشاف کیا کہ یہ واقعہ کچھ یہودیوں نے کیا ہے، مسلمانوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ اسی قسم کی باتیں کرتا رہا۔ اس درمیان میں امریکہ کی انتظامیہ نے اس معاملے کا باقاعدہ ثبوت پیش کرتے ہوئے اُن مسلمانوں کے نام شائع کر دیے جو اس واقعے کے ذمے دار تھے۔ لیکن مسلم دانش ور اب بھی یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ اس واقعے کے ذمے دار مسلمان ہیں۔
یہ بحث اسی طرح چلتی رہی۔ یہاں تک کہ آخر میں الجزیرہ ٹی وی نے اپنے پروگرام میں ایک ایسا ویڈیو ٹیپ دکھایا جو آخری طور پر ثابت کر رہا ہے کہ ۱۱ ستمبر کا واقعہ مسلمانوں نے کیا تھا، اور اس کی قیادت خود اسامہ بن لادن نے کی تھی۔ الجزیرہ ٹی وی، اب تک مسلمانوں کے درمیان معتبر ذریعے کے طور پر لیا جاتا رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی میں دکھایا ہوا یہ ویڈیو تمام میڈیا میں آ چکا ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues