Al-Risala · February 2007 · page 27

11 ستمبر، اور امت مسلمہ

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۲۷

اخبار ٹائمز آف انڈیا، ۹ ستمبر ۲۰۰۶ کے صفحہ ۸ پر یہ خبر اس عنوان کے تحت چھپی ہے: Al-Jazeera airs pre-9/11 tape of bin Laden Shows Osama Meeting Planners of WTC Attacks, Greeting Hijackers. ۱۱ ستمبر کے اس واقعے کے بعد مسلمانوں کا ردِّعمل بلاشبہ درست نہ تھا۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ ۱۱ ستمبر اور اس طرح کے دوسرے واقعات، جدید میڈیا کے دور میں پیش آئے۔ جدید میڈیا کا مزاج یہ ہے کہ وہ سنسنی خیز واقعات کو بہت زیادہ نمایاں کرتا ہے۔ اس واقعے کے پیش آنے کے بعد، مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقے نے اپنی ساری توجہ صرف اس سوال پر دی کہ اس کا کرنے والا کون تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ثانوی مسئلہ تھا۔ زیادہ سنگین مسئلہ یہ تھا کہ اس واقعے نے اسلام اور مسلمانوں کی تصویر بہت زیادہ بگاڑ دی۔ ساری دنیا میں اسلام کو اور مسلمانوں کو وحشت خیز نظر سے دیکھا جانے لگا۔ اس لیے اصل ضرورت یہ تھی کہ اس سوال پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے کہ اسلام کی تصویر کو کس طرح دوبارہ درست کیا جاسکتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو مسلمانوں کے اوپر فرض تھا کہ وہ اس معاملے کو درستیٔ تصویر (image building) کی حیثیت سے لیں، اور سارے ممکن ذرائع کو استعمال کرکے وہ اس بات کی کوشش کریں کہ اسلام اور مسلمانوں کی تصویر دوبارہ اپنی صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے آسکے، مگر بدقسمتی سے یہ کام نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ اب ساری دنیا میں مسلمان اس کا سخت انجام بھگت رہے ہیں۔

مجھے ہندوستان کے ایک مسلم مدرسے کا واقعہ معلوم ہے۔ یہ مدرسہ ایک ندی کے کنارے واقع ہے۔ اس ندی کے دوسری طرف ایک گاؤں تھا۔ وہاں سے ہندو عورتیں نہانے اور کپڑا دھونے کے لیے اس ندی پر آیا کرتی تھیں۔ ایک بار ایسا ہوا کہ مدرسے کے ایک طالب علم نے ایک ہندو عورت کو چھیڑ دیا۔ یہ خبر جب گاؤں والوں کو پہنچی تو وہ بہت غصہ ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس مدرسے کو جلا کر ختم کر دیں گے۔

مدرسے کے ذمہ داروں کو جب اس کا علم ہوا تو انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ گاؤں والوں کو ذمے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page