11 ستمبر، اور امت مسلمہ
الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۲۸
دار بتا کر وہ ان کے خلاف تقریریں کریں یا بیانات شائع کریں، بلکہ مدرسے کے ذمے دار، اُس لڑکے کو لے کر گاؤں میں گئے اور کہا کہ۔ اس لڑکے نے بہت غلط کام کیا ہے۔ آپ جو سزا چاہیں اس لڑکے کو دے سکتے ہیں۔ اس اعترافِ خطا کا نتیجہ یہ ہوا کہ گاؤں کے ہندو نرم پڑ ِگیے انھوں نے لڑکے کو معاف کر دیا۔
اس کے بعد مدرسے والوں نے مسلسل کوشش کے ذریعے گاؤں والوں کو ٹھنڈا کیا۔ انھوں نے یک طرفہ حسن سلوک کے ذریعے گاؤں والوں کو اپنا دوست بنالیا، یہاں تک کہ ناخوش گوار واقعہ ایک خوش گوار انجام پر ختم ہوگیا۔ میں خود اس مدرسے میں گیا ہوں اور وہاں میں نے ذاتی طور پر اس واقعے کی تحقیق کی ہے، اور گاؤں کے بعض افراد سے ملاقات بھی کی ہے۔
اس طریقے کو آج کل کی زبان میں امیج بلڈنگ(image building) کہا جاتا ہے۔ اپنے ذاتی مسئلے کو حل کرنے کے لیے عام طور پر لوگ یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ ۱۱ ستمبر کے بعد تمام دنیا کے مسلمانوں کو پوری سنجیدگی کے ساتھ، اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں امیج بلڈنگ کا یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے تھا، لیکن مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا، حتیٰ کہ مسلمانوں کے کسی عالم یا کسی دانش ور نے بطور تجویز بھی یہ بات پیش نہیں کی۔
اب مسلمانوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ اپنی سابقہ روش کو ترک کر کے پوری سنجیدگی کے ساتھ یہی طریقہ اختیار کریں۔ اگر ایک مسلم مدرسے کی تصویر بگڑنے کے بعد دوبارہ درست ہوسکتی ہے تو یقینی طور پر یہ بھی ممکن ہے کہ امتِ مسلمہ کی بگڑی ہوئی تصویر دوبارہ درست ہوجائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues