Al-Risala · February 2007 · page 36

انسان کی کہانی

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۳۶

ایک خط عزیزی اُم السلام سلمہا! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۵ نومبر ۲۰۰۶ کی شام کو ٹیلی فون کے ذریعے معلوم ہوا کہ عثمان بن سعید چاوُش کا انتقال ہوگیا۔ اِنّا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم کی صحت عرصے سے اچھی نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور پس ماندگان کے لیے حُسن تلافی کا سامان فرمائے۔

مرحوم سے میرا پہلا تعارف اْس وقت ہوا جب کہ میں رام پور میں تھا۔ یہ تعارف غائبانہ سطح پر شروع ہوا۔ پندرہ روزہ ’’الحسنات‘‘ کو دیکھ کر انھوں نے مجھ کو خطوط لکھے، اس طرح ان سے خط و کتابت شروع ہوئی۔ بعد کو اُن سے براہِ راست ملاقات ہوئی اور پھر ان سے وہ تعلق قائم ہوا جو آخر وقت تک باقی رہا۔

مرحوم بلاشبہ ایک مخلص انسان تھے۔ وہ ہمیشہ دین کی بات کرتے تھے۔ اُن کو میں نے کبھی ادھر اُدھر کی غیر دینی بات کرتے ہوئے نہیں سُنا۔ الرسالہ مشن کو پھیلانے میں انھوں نے بہت زیادہ کام کیا۔ برسوں تک ان کا یہ حال تھا کہ سفر کر کے وہ ہر جگہ پہنچتے اور الرسالہ، اور الرسالہ مطبوعات کو لوگوں تک پہنچاتے۔ اس معاملے میں ان کی قربانیاں بے مثال ہیں۔

مرحوم مثبت ذہن کے حامل تھے اور خالص داعیانہ مزاج رکھتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے ایک قریبی ساتھی برادرم محمد ضمیر (کامٹی) کا ایک خط مجھے ملا۔ اپنے اس خط میں انھوں نے مرحوم کے دعوتی اور مثبت مزاج کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کا ایک واقعہ اس طرح لکھا ہے: ’’ایک مرتبہ منگھیڈ (نانڈیڑ) میں کسی غیر مسلم نے اپنی دیوار پر لکھ دیا تھا کہ۔ ’’گرو سے کہو، ہم ہندو ہیں‘‘ اس کے جواب میں آپ نے کوئی چیخ و پکار نہیں کی، نہ ہی انھوں نے مسلمانوں کو بھڑکایا، بلکہ انھوں نے اس کے جواب میں صرف محبت کا ایک جملہ لکھ دیا جس پر شرمندہ ہو کر مذکورہ ہندو بھائی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page