نئی دہلی، ۶ نومبر ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین
الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۳۷
نے اپنا جملہ دیوار سے مٹا دیا۔ مرحوم کی وہ بات یہ تھی ’’مذہب گرو کرنے کی چیز نہیں ہے۔ ‘‘ یہ جملہ انھوں نے مراٹھی زبان میں لکھا تھا۔
مرحوم کی ایک بات مجھے بہت یاد آتی ہے۔ وہ اکثر پر یقین انداز میں کہا کرتے تھے: ’’اللہ بہت بڑے ہیں۔ ‘‘ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مومنانہ نفسیات کا خلاصہ ہے۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی بات ہے کہ آدمی کے دل میں خدا کی عظمت بیٹھی ہوئی ہو۔ خدا کی عظمت کا احساس آدمی کو ایک طرف یقین کا سرچشمہ عطا کرتا ہے، اور دوسری طرف وہ اس کے اندر کامل تواضع پیدا کر دیتا ہے۔ یہی دو چیزیں انسان کی شخصیت کی اعلیٰ تعمیر کرنے والی ہیں۔
مرحوم خود اس بات کا کامل نمونہ تھے۔ ان کی ہر ادا سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ وہ خدا کی ذات پر کامل یقین رکھتے ہیں اور اسی کے ساتھ ان کے اندر تواضع کی صفت بھی کامل درجے میں پائی جاتی تھی۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں شاعر نے کہا ہے:
خدا، رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را!
گھر کے تمام لوگوں کو حسب مراتب سلام اور دعاء۔
نئی دہلی، ۶ نومبر ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues