Al-Risala · January 2007 · page 8

مراسلت نمبر_ ۳

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۸

مراسلت نمبر_ ۳

ماہ نامہ افکار ملی کے سب ایڈیٹر مولا نا ظریف شہباز ندوی کا ایک مضمون ماہ نامہ زندگی نو (نئی دہلی) کے شمارہ جنوری ۲۰۰۶ میں شائع ہوا۔ اس کا عنوان یہ تھا: ’’اجتہاد، عصر حاضر کی ایک دعوتی ضرورت‘‘۔ اس مضمون میں انھوں نے ایک ایسی بات لکھی تھی جو میرے مطالعے کے مطابق، بالکل فرضی تھی۔ میں نے انھیں اس سلسلے میں ایک خط بھیجا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا:

برادر محترم مولا نا ظریف شہباز ندوی!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

عرض یہ کہ ماہ نامہ زندگی نو کے شمارہ جنوری ۲۰۰۶ میں آپ کا ایک مضمون بعنوان: ’’اجتہاد، عصر حاضر کی ایک دعوتی ضرورت‘‘ چھپا ہے۔ اپنے اس مضمون میں آپ نے دار الدعوۃ کا ذکر کیا ہے اور اس کے تحت آپ نے یہ الفاظ لکھے ہیں: ’’ڈاکٹر یوسف القرضاوی پوری دنیا کو دار الدعوۃ قرار دیتے ہیں۔ محمد محروس مدرس الاعظمی بھی اسی نظریے سے اتفاق کرتے ہیں‘‘۔ (صفحہ ۳۲)

میں نے مذکورہ دونوں صاحبان کی کئی تحریریں پڑھی ہیں۔ اپنے مطالعے کے مطابق، میں نے ان کی کسی تحریر میں دار الدعوۃ کا تصور نہیں پایا۔ براہِ کرم ان دونوں صاحبان کی اُن کتابوں کے نام اور ان کا صفحہ نمبر تحریر فرمائیں جن میں انھوں نے دار الدعوۃ کے تصور کا ذکر کیا ہے، تاکہ اس سے رجوع کر کے اس بات کو معلوم کیا جاسکے۔

نئی دہلی، ۴ جنوری ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین کافی انتظار کے باوجود اُن کی طرف سے اِس خط کا کوئی جواب نہیں آیا۔ اِس کے بعد انھیں یاد دہانی کے طور پر دوسرا خط روانہ کیا گیا۔ اِس دوسرے خط کا مضمون یہاں نقل کیا جاتا ہے: برادر محترم مولا نا ظریف شہباز ندوی!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

اس سے پہلے آپ کو ایک خط مورخہ ۴ جنوری ۲۰۰۶ روانہ کر چکا ہوں۔ مگر ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ آپ نے لکھا تھا کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی اور محمد محروس مدرس الاعظمی پوری دنیا کو دار الدعوۃ قرار دیتے ہیں۔ میرے مطالعے کے مطابق، یہ ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔ ان حضرات نے یا کسی اور عالم نے صراحتاً ایسا نہیں لکھا ہے۔ اگر آپ کے علم میں ایسے علماء ہیں تو براہِ کرم مطلع فرمائیں کہ انھوں نے ایسا کس کتاب

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page