Al-Risala · January 2007 · page 7

مراسلت نمبر ــــــــ ۲

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۷

کارنامہ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تعلیمات میں ’’عصری معنویت‘‘ کا تذکرہ فرمایا تھا۔ اس سلسلے میں میں نے آپ سے شاہ ولی اللہ کی کسی تحریر کا حوالہ دریافت کیا تھا جس سے ان کا یہ کارنامہ متعین طور پر معلوم ہوتا ہو، مگر آپ نے اپنے دعوے کے ثبوت میں کوئی حوالہ روانہ نہیں فرمایا۔

ایسی حالت میں میں یہ ماننے پر مجبور ہوں کہ آپ نے محض زور ادب کے تحت ایسا لکھ دیا تھا۔ آپ کو خود ایسے کسی متعین حوالے کا علم نہیں۔ اگر آپ کو اس سلسلے میں کسی واضح اور متعین حوالے کا علم ہوتا تو آپ ضرور اس کو تحریر فرماتے۔ میں عرض کروں گا کہ یہ طریقہ بے حد غیر علمی ہے۔ آپ کے لیے اس معاملے میں صرف دو میں سے ایک کا انتخاب تھا۔ یا تو آپ متعین حوالہ تحریر فرماتے یا یہ اعتراف کرتے کہ میں نے غلط طور پر ایسا لکھ دیا تھا۔ ان دو طریقوں کو چھوڑ کر خاموشی کا طریقہ اختیار کرنا سخت غیر علمی بات ہے۔ جو لوگ اس قسم کی غیر علمی روش اختیار کریں وہ خود اپنے علمی اور فکری ارتقا کو روک رہے ہیں۔ ایسی روش کا نقصان آدمی کے اپنے حصے میں آتا ہے نہ کہ کسی دوسرے کے حصے میں۔ نئی دہلی، ۷ مارچ ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین میرے نزدیک یہ نہ کوئی سادہ بات ہے اور نہ وہ کسی ایک شخص کا معاملہ ہے۔ وہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی عمومی نفسیات کو بتاتا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان عام طور پر ’’دین اکابر‘‘ پر قائم ہیں۔ ایسے لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ ان کے اکابر انھیں فکری عظمتوں کے مالک ہیں جو رسول اور اصحاب رسول کو حاصل تھیں، وہ اُن ابدی صفات سے متصف ہیں جو رسول اور اصحاب رسول کو ملی ہوئی تھیں ۔ اِس بنا پر ان کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے اکابر کے بارے میں مذکورہ قسم کے بڑے بڑے دعوے کریں۔ اگر وہ ایسے بڑے بڑے دعوے نہ کریں تو ان کے نزدیک ان کے اکابر کی مفروضہ عظمت ہی مشتبہ ہو جائے گی۔ مگر اس طریقے کا ایک عظیم نقصان یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا ذہنی ارتقا رک جاتا ہے۔ اکابر کی عظمت کا مفروضہ عقیدہ ان کے ذہنی سفر پر فل اسٹاپ لگا دیتا ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات ۱۷۶۲) بلاشبہ ایک بڑے عالم دین تھے۔ اپنے زمانے کے اعتبار سے انھوں نے بہت قابل قدر خدمات انجام دیں مگر یہ سمجھنا کہ شاہ ولی اللہ کی تحریریں ’’عصری معنویت‘‘ کی حامل ہیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ صاحب مضمون کو عصر جدید کی معرفت حاصل نہیں۔ کیوں کہ شاہ ولی اللہ دہلوی کی تحریروں میں نہ عصر جدید کا عرفان موجود ہے اور نہ عصر جدید کی نسبت سے اسلامی رہنمائی۔ اس قسم کا بیان ایک مہلک خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page