Al-Risala · March 2007 · page 2

منفی سوچ کا انجام

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۷، صفحہ ۲

منفی سوچ کا انجام

عراق کے صدر صدام حسین نے تقریباً 30 سال تک عراق کے اوپر ڈکٹیٹرانہ حکومت کی۔ انھوں نے اپنے دعوے کے مطابق، مغربی قوموں کے خلاف سب سے بڑی جنگ چھیڑی، جس کو وہ ’’اُم المعارک‘‘ کہتے تھے۔ امریکا سے ان کا ٹکراؤ ہوا۔ ان کا آخری انجام یہ ہوا کہ 30 دسمبر 2006 کو انھیں عراق میں پھانسی دے دی گئی۔ یہ پورا واقعہ ایک افسوس ناک واقعہ تھا۔ لیکن اس کا ایک انتہائی مثبت پہلو یہ ہے کہ موت سے پہلے صدام حسین نے ای میل کے ذریعے اپنی قوم کے نام ایک پیغام دیا۔ اس پیغام میں انھوں نے کہا تھا کہ ـــــ تم لوگ امریکا سے نفرت نہ کرو، کیوں کہ نفرت، سوچنے کے تمام دروازے بند کردیتی ہے۔ انگریزی رپورٹنگ میں اس کے الفاظ یہ تھے:

I call on you, not to hate Americans, because hate closes all doors of thinking. پچھلے دو سو سال کی مسلم تاریخ اس کا کھلا ہوا نمونہ ہے۔ نو آبادیات (Colonialism) کے زمانے میں مسلمان، مغربی قوموں سے سخت نفرت کرنے لگے، پھر صیہونیت (Zionism) کے عنوان سے یہودی نفرت شروع ہوئی، پھر امریکیّت (Americanism) سے وہ شدید طور پر متنفر ہوگئے۔ اور امریکا کو اسلام کا دشمن نمبر ایک کہنے لگے۔ اِسی کا ایک مظاہرہ 11 ستمبر 2001 کا واقعہ تھا جو نیویارک میں پیش آیا۔ پچھلے دو سو سال کے اندر پوری مسلم دنیا میں نفرت کا یہی ماحول چھایا رہا ہے۔ اس مدت میں پیدا ہونے والی تمام بڑی بڑی شخصیات نفرت کا شکار ہو کر رہ گئیں ــــ سید جمال الدین افغانی، آیت اللہ خمینی، جمال عبدالناصر، اسامہ بن لادن، محمد علی جوہر، ابوالکلام آزاد اور صدام حسین وغیرہ۔ اس مدت میں پوری مسلم دنیا میں لوگ نفرت میں مبتلا رہے۔ اس بنا پر یہ ہوا کہ ان کے اندر مثبت سوچ کا ارتقا نہ ہوسکا۔ یہ صورتِ حال ابھی تک بدستور جاری ہے جس نے مسلمانوں کے اندر مثبت سوچ کے تمام دروازے بند کر دیے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2007 All issues

Printed page